مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 81

ΔΙ مذہب کے نام پرخون اپنے اعلیٰ اور بلند مرتبوں کے باوجود ٹھوکر کھا سکتے ہیں اور کھاتے رہے ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات حسنہ غیر مشکوک ہیں۔ان علماء کے شدید باہمی اختلافات ہی اس امر کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ یہ خطاء سے پاک نہ تھے۔اگر دس رائیں ایک دوسرے سے مختلف ہوں تو بہر حال ایک ہی درست ہوگی اور باقی نو غلط ہوں گی بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک بھی درست نہ ہو۔بہر حال قطع نظر اس سوال کے کہ علماء کہیں انفرادی یا اجتماعی ٹھو کر کھا سکتے ہیں یا نہیں ایک امر جو ہر شک سے بالا ہے اور یقیناً درست ہے وہ یہی ہے کہ شاخیں جڑ پر قربان کی جاسکتی ہیں جڑ شاخوں پر نہیں۔کوئی حدیث جس کے راوی خواہ کتنے ہی بچے ہوں اگر قرآن کریم کی کسی آیت کے یقینی طور پر خلاف ہو تو قرآن کریم کے مقابل پر اسے کسی حالت میں بھی ترجیح نہیں دی جاسکتی۔اسی طرح ہر وہ اجماع یا کثرت رائے جو قرآن کریم کے کسی بیان کے یقینی طور پر خلاف ہو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر برے رنگ میں روشنی ڈالے، بغیر کسی تردد کے معا ٹھکرا دینے کے قابل ہے۔اس وضاحت کے بعد اب ہم مضمون کے اس حصہ کی طرف واپس آتے ہیں جہاں ہم نے اسے چھوڑا تھا۔سوال زیر بحث یہ تھا کہ مودودی صاحب کے نزدیک مسلمان کہلانے والوں کے اس انبوہ کثیر میں سے کون کون سے فرقے مرتد شمار ہوں گے تا کہ اس امر کا کچھ اندازہ کیا جاسکے کہ اگر کبھی انہیں اقتدار نصیب ہو تو خلق خدا میں سے کتنوں کی گردنیں ان کے ہاتھ میں آجائیں گی۔مولانا کے نزدیک احمدی تو خیر ” مرتد ہیں ہی اور بہر حال ایک ”غیر مسلم اقلیت ہیں لیکن یہ ارتداد اور کفر محض انہی تک محدود نہیں ، ان کے علاوہ اہل قرآن یعنی پرویز صاحب کے مکتب خیال لوگ بھی غیر مشکوک طور پر کافر، دائرہ اسلام سے خارج یا بالفاظ دیگر مرتد متصور ہوں گے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ان کا کفر قادیانیوں سے بھی زیادہ سنگین شمار ہو گا (اس لحاظ سے ممکن ہے انہیں نسبتا زیادہ تکلیفیں دے کر مارا جائے ) چنانچہ جماعت اسلامی کے ترجمان تسنیم“ میں شائع ہونے والا مولانا امین احسن صاحب اصلاحی کا ایک فتوی ملاحظہ فرمائیے۔یہ فتویٰ ان دنوں کا ہے جب ابھی مولانا امین احسن اصلاحی مودودی صاحب سے برگشتہ نہیں ہوئے تھے اور ان کا دایاں باز و شمار ہوتے تھے۔مولانا اصلاحی صاحب فرماتے ہیں:۔