مذہب کے نام پر خون — Page 80
مذہب کے نام پرخون اور اسی کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں ان کے اس طریق کو سخت نا پسند یدہ اور قابل سرزنش قرار دیتا ہے اور اس کی سزا یقینی ہلاکت اور عتاب الہی تجویز فرما تا ہے۔پھر میں یہ کس طرح تسلیم کرلوں کہ میرے مقدس آقا نے ان تمام معصوم انبیاء کی سنت کو ترک کر کے نعوذ باللہ ان کے مخالفین کی ناپسندیدہ اور ناجائز سنت کو اپنا لیا اور اس کو صحیح قرار دیا۔یہ میرے نزدیک سورج کی طرف تاریکی منسوب کرنے سے بھی زیادہ ناممکن ہے۔مگر اس پہلو پر چونکہ کتاب کے پہلے باب ہی میں نہایت تفصیل سے روشنی ڈال دی گئی ہے اس لئے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔تیسرا فیصلہ کن امر یہ ہے کہ قرآن کریم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کی جو تاریخ پیش کرتا ہے وہ واضح طور پر اس خیال کو باطل اور بے بنیاد قرار دے رہی ہے اور آنحضرت کے زمانہ کی قرآن کریم کی پیش کردہ تاریخ سے متعلق مسلمان علماء تو کیا تمام یورپین مستشرقین بھی خواہ کیسے ہی متعصب کیوں نہ ہوں یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ یہ بغیر کسی شک کے قابل قبول ہے۔قرآن کریم کے پیش کردہ جن تاریخی حقائق کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے ان کا تفصیلی ذکر انشاءاللہ اس باب کے آخر پر کیا جائے گا۔بہر حال یہ تینوں دلائل اکیلے اکیلے بھی ایسے وزنی اور ٹھوس اور واضح ہیں کہ ان کے مقابل پر ہر دوسری دلیل ٹھکرائی جانے کے لائق ہے۔اور امور کو چھوڑ کر صرف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت انصاف پر ہی نظر کی جائے تو قتل مرتد کے نظریہ کی عمارت ریت کے قلعہ کی طرح خود بخود دمسمار ہو جاتی ہے۔مودودی صاحب اگر اس کے مقابل پر یہ دلیل پیش فرمائیں کہ بہت سے جید علمائے اسلام اس نظریہ کے قائل تھے تو مولانا کے اس استدلال کو میں ایسا ہی سمجھتا ہوں جیسے کوئی شاخ کو اؤل اور جڑ کو آخر کر دے۔یہ علماء خواہ کتنے ہی بڑے مقام پر کیوں نہ ہوں پھر بھی امور شریعہ میں غلطی سے پاک نہیں تھے مگر ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلطی سے پاک تھے اس لئے اگر چودہ سوسال میں مختلف اوقات میں پیدا ہونے والے تمام علماء بھی بیک آواز کوئی ایسی بات کہیں جسے تسلیم کر لینے سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت، امانت، دیانت اور عدالت پر کوئی حرف آتا ہو تو میں اسے تسلیم کرنے کے لئے ہر گز تیار نہ ہوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ علماء