مذہب کے نام پر خون — Page 73
۷۳ مذہب کے نام پرخون ریشہ دوانیوں میں مصروف رہیں۔نیک ارادوں یا اصلاح خلق کے بہانے صالحین کی مختلف پارٹیوں کو حکومتوں کا تختہ الٹنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔کسی کی صالحیت کے بارہ میں ان کے اختلافات ایسے شدید اور سنگین ہو سکتے ہیں کہ اگر دونوں کو تسلیم کر لیا جائے تو کوئی پارٹی بھی صالح نہ رہے۔اسی مثال پر غور کر لیجئے کہ مولانا کے نزدیک احمدیت کا اسلام سے کوئی بھی تعلق نہیں یہ امت محمدیہ میں فساد بر پا کرنے کے لئے انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے جو انہوں نے اس غرض سے لگایا تھا کہ مسلمانوں کو جہاد سے متنفر کیا جائے اور ان کی قوت عمل کو زائل کر دیا جائے۔احمدیت کا بیج اس لئے بویا گیا ہے کہ مسلمانوں میں باہم اختلافات پیدا کر دیے جائیں اور مار آستین کی طرح یہ جماعت اسلام میں شامل ہو کر ایک خفیہ مگر سخت مہلک حملہ کے ذریعہ اسلام کی بیخ کنی کر دے۔مگر میرے نزدیک جماعت احمد یہ خالصتاً اسلام کے غلبہ اور احیائے نو کی خاطر قائم کی گئی ہے اس کا بیج انگریز نے نہیں بلکہ اس خدا نے اپنے ہاتھ سے بویا ہے جس نے امت محمدیہ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی اصلاح کے لئے ایک مہدی عطا کرے گا اور ایک ایسا مسیح نازل فرمائے گا جو اپنے نا قابل تردید دلائل کے ذریعہ ( صلیب کو پارہ پارہ کر دے گا۔پس میرے نزدیک یہ جماعت اسی مہدی اور مسیح کی جماعت ہے۔چنانچہ ایک طرف تو یہ بنی نوع انسان کی اصلاح کی غرض سے بے غرضانہ اور درویشانہ وعظ ونصیحت کے کام میں مصروف ہے اور دوسری طرف زمین کے کناروں تک عیسائیت سے مصروف پیکار ہے اور ہر میدان میں اسے شکست دے رہی ہے۔میں بھلا کس طرح باور کروں کہ یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔کیا انگریز کے خود کاشتہ پودے کا یہی کام تھا کہ وہ انگریز کے مذہب یعنی عیسائیت کے پودے کی بیخ کنی کر دے اور ہر سر زمین سے اس کی جڑیں اکھاڑ پھینکے جہاں جہاں یہ پہنچے تثلیث کے پودے سوکھنے لگیں اور توحید کے بیج بوئیں جائیں۔یہ پیج سرسبز اور شاداب لہلہاتی ہوئی کونپلوں کی صورت پھوٹیں اور جلد جلد بڑھنے لگیں۔تنومند اور جوان ہوں اور پھولیں اور پھلیں۔ان کے پھول حسین اور معطر ہوں۔پھل خوش منظر اور میٹھے۔اور سبز شاخوں کے سائے تسکین بخش ہوں۔سعید روحیں پرندوں کی طرح ان کی ڈالی ڈالی پر وحدت کے گیت گائیں۔