مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 72

۷۲ مذہب کے نام پرخون خالصتا اصلاح خلق کی نیت سے ہی میدان عمل میں کو دی ہے لیکن اس احتمال کو کوئی کہاں لے جائے کہ بسا اوقات ایسی پارٹیاں جو نیک نیتوں کے بلند بانگ دعاوی لے کر اٹھتی ہیں بہت جلد اقتدار کی ہوس ان پاک ارادوں کو ڈگمگا دیتی ہے اور پاکیزہ نیتوں کو بھسم کر دیتی ہے۔خود مودودی صاحب ہی کے الفاظ میں ذرا فطرت انسانی کی اس بے اختیاری کا قصہ سنیے:۔دو لیکن حکومت اور فرمانروائی جیسی کچھ بد بلا ہے ہر شخص اس کو جانتا ہے۔اس کے حاصل ہونے کا خیال کرتے ہی انسان کے اندر لالچ کے طوفان اٹھنے لگتے ہیں۔خواہشات نفسانی یہ چاہتی ہیں کہ زمین کے خزانے اور خلق خدا کی گردنیں اپنے ہاتھ میں آئیں تو دل کھول کر خدائی کی جائے لے “ پس جب خود مولانا کو بھی یہ تسلیم ہے کہ اقتدار کی تمنا تو خیر الگ رہی اس کے حاصل ہونے کا خیال ہی ایک نہایت خطرناک تبدیلی دل میں پیدا کر سکتا ہے تو اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ ان کے تیار کردہ صالحین اس خطرناک مقام سے محفوظ گزر جائیں گے۔اگر کہیں کہ ان کی نیک نیتی کی ضمانت اس وجہ سے لی جاسکتی ہے کہ وہ اس ٹرینگ میں سے گزر چکے ہوں گے جو اس ”سول سروس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے یعنی تمام عبادات اسلامی بجالانے والے ہوں گے۔تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا نے یہ فرض کہاں سے کر لیا صرف ان کی اسلامی جماعت کے اراکین ہی نماز ، روزہ، حج ، زکوۃ وغیرہ کے فرائض ادا کرتے ہیں اگر احمدیوں کی عبادتیں آپ کے نزدیک عبادتیں نہ بھی ہوں تو کیا بریلوی کلیتہ ان عبادات کے تارک ہیں یا دیو بندی ان سے بیزار ہو چکے ہیں ؟ کیا شیعہ خیال کے مسلمانوں کی عبادتیں عبادتیں نہیں اور اہل قرآن ان کو یکسر ترک کر بیٹھے ہیں ؟ پھر ان سب کو کیوں حق نہیں پہنچتا کہ وہ بھی اپنے اپنے رنگ میں بزور شمشیر ہر وقت اس حکومت وقت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرتے رہیں جو ان کے مکتب خیال کے مطابق فاسد نظریات پر مبنی ہو۔پھر غیر مسلم بھی تو اپنی اپنی جگہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں۔اگر وہ ایسا نہ سمجھتے تو کیا فوج در فوج اسلام میں نہ داخل ہو جاتے ؟ اس لئے ان کو بھی اصولاً یہ حق ملے گا کہ حکومت وقت کا تختہ الٹنے کے لئے ہر وقت حقیقت جہاد صفحه ۱۵