مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 71

مذہب کے نام پرخون عبادت کا اس خوفناک حد تک مادی نظر یہ یقیناً دنیا کے کسی مذہب نے کبھی پیش نہیں کیا۔مگر جب اقتدار کی بے پناہ تمنا ہر نظریہ حیات پر مسلط ہو چکی ہو تو بعید نہیں کہ عبادت الہی بھی فوج، پولیس اور سول سروس کی ٹریننگ کی طرح نظر آنے لگے۔اور یہ اقتدار کی تمنا ایسی بے صبر و بے قرار تمنا ہے کہ کسی مشکل اور لمبی ( مگر درست ) راہ کو اختیار کر کے حصول مقصد کی اجازت نہیں دیتی۔اشتراکیت کا بھی یہی دعویٰ تھا کہ انقلاب کے لئے لمبے جمہوری طریق کو اختیار کرنا عبث ہے بلکہ کمیونسٹ پارٹی اپنے نیک مقصد کے حصول کی خاطر جب بھی موقع پائے حکومت وقت کا تختہ الٹ کر عنان اقتدار اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔مولانا کا بھی بعینہ یہی دعوئی ہے۔سرموفرق نہیں۔چنانچہ مودودی فرمان اپنے متبعین کو یوں پابند کرتا ہے کہ:۔جس سرزمین میں بھی تمہاری حکومت ہو وہاں خلق خدا کی اصلاح کے لئے اٹھو حکومت کے غلط اصول کو صحیح اصول سے بدلنے کی کوشش کرو۔ناخدا ترس اور شتر بے مہار قسم کے لوگوں سے قانون سازی اور فرماروائی کا اقتدار چھین لولے“۔حیرت کی بات ہے کہ مولانا اقتدار کی تمنا میں ایک ہزاروں سال کے آزمودہ عام اخلاقی نکتہ کو سمجھنے سے بھی قاصر رہ جاتے ہیں اور وہ نکتہ یہ ہے کہ دعاوی خواہ کتنے ہی بلند بانگ ہوں اور نیتیں خواہ بظاہر کیسی ہی نیک کیوں نہ ہوں ملک کی کسی پارٹی کولٹر کر حکومت پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ورنہ دنیا میں ایک ایسا فساد عظیم برپا ہو جائے گا کہ تا قیامت مٹ نہ سکے گا اور خانہ جنگیوں کی ایسی آگ بھڑ کے گی کہ بجھائے نہ بجھے گی۔اوّل تو اس امر کا فیصلہ کہ جس مقصد کے لئے کوئی پارٹی کھڑی ہوئی ہے وہ نیک ہے بھی یا نہیں خود اسی پارٹی پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔دوسرے اگر بالفرض اسے نیک تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس فیصلہ کا اختیار بھی اسی پارٹی کو نہیں دیا جا سکتا اور نہ یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ان کے مد مقابل تمام لوگ تو یقیناً بد کردار، ناہنجار، نا خدا ترس اور ظالم و سفاک ہیں لیکن خدائی فوج داروں کی اس پارٹی کا ہر مبر صالح اور خدا ترس ہے اور نفس کی ملونی اور حرص و ہوا سے کلیتہ پاک ہے اور بحیثیت مجموعی یہ پارٹی حقیقت جہاد صفحه ۱۵