مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 70

مذہب کے نام پرخون اقتدار کی تڑپ مودودی صاحب کی مختلف کتب کے مطالعہ کے بعد میں اس یقینی نتیجہ تک پہنچا ہوں کہ موصوف کی نفسیات کے تجزیہ کا ما حصل ان تین لفظوں میں سمٹا ہوا ہے اقتدار کی تڑپ“۔یہ اقتدار کی تڑپ ایسی بے حد و بے پناہ ہے کہ ان کے ہر نظریہ حیات پر مسلط ہو چکی ہے۔ان کے نزدیک عبادت الہی کا مفہوم بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ خدا کے بعض بندوں کو صالح بنا کر دوسرے بندگان خدا پر حکومت کرنے کا اہل بنایا جائے اور عبادتوں کے روحانی پہلو کی طرف ذرا بھی ان کی نگاہ نہیں اٹھتی۔وہ بھول جاتے ہیں کہ عبادت کی بنیادی غرض بندے کا خدا تعالیٰ سے وصال کرانا ہے یعنی اس مقصد کا پورا کرنا ہے جس کی خاطر جن وانس پیدا کئے گئے۔وہ بھول جاتے ہیں کہ عبادت کا ئنات کی تخلیق کا مقصود ہے کسی ثانوی مقصد کے حصول کا ذریعہ نہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ عبادت جن و انس کی خاطر پیدا نہیں کی گئی بلکہ جن و انس عبادت کی خاطر پیدا کئے گئے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷) ہم نے عبادت کی خاطر ہی جن وانس پیدا کئے ہیں مگر مولانا کا اصرار ہے کہ :۔” یہ نماز اور روزہ۔یہ زکوۃ اور حج دراصل اسی تیاری اور تربیت کے لئے ہیں۔جس طرح تمام دنیا کی سلطنتیں اپنی اپنی فوج، پولیس اور سول سروس کے لئے آدمیوں کو پہلے خاص قسم کی ٹریننگ دیتی ہیں پھر ان سے کام لیتی ہے۔اسی طرح اسلام بھی ان تمام آدمیوں کو جو اس ملازمت میں بھرتی ہوں پہلے خاص طریقہ سے تربیت دیتا ہے پھر ان سے جہاد اور حکومت الہی کی خدمت لینا چاہتا ہے ے “۔لے حقیقت جہاد صفحہ ۱۶