مذہب کے نام پر خون — Page 65
مذہب کے نام پرخون صحیفہء فطرت پر ایک نظر ڈالنے ہی سے انسان اس حقیقت کو پا جاتا ہے کہ روحانی اور اخلاقی انقلابات بر پا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو جو ذریعہ اختیار کرنے کی تلقین فرماتا ہے وہ محض حق بات کی نصیحت کرنا ہے۔دعا کے ساتھ اور صبر کے ساتھ ،صبر کے ساتھ اور دعا کے ساتھ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے اس وعدہ کے پورا ہونے کا دن آجائے کہ :۔وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (الاعراف:۱۲۹) انجام کار متقیوں ہی کی فتح ہوگی۔خدا تعالیٰ کے تمام فرستادہ نبی اسی مکتبہ خیال کے حامی تھے اور ان کا اصلاح خلق کا تصور جبری اصلاح کے اشترا کی تصور کے بالکل برعکس تھا۔قرآن کریم انبیاء علیہم السلام کے اس مقدس گروہ کو مذہبی تبلیغ کرنے والے واعظین اور مبشرین کی ایک جماعت کے طور پر پیش کرتا ہے جن کے طریق کار کا ذکر بنی نوع انسان کی راہنمائی کی خاطر ہمیشہ ہمیش کے لئے اس مقدس صحیفہ میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔پس اس الہی بیان کے مطابق حضرت نوح کا انقلابی ہتھیار بھی نصیحت تھا اور حضرت ابراہیم کا بھی۔حضرت شعیب کا بھی اور حضرت صالح" کا بھی۔حضرت لوط بھی ناصح ہی بن کر آئے تھے اور حضرت موسیٰ “ اور حضرت عیسی بھی اور سب سے آخر پر مگر ان سب سے کہیں بڑھ کر سید ولد آدم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی محض ایک ناصح کے طور پر ہی ایک عظیم ترین عالمگیر روحانی انقلاب بر پا کرنے کے لئے اس دنیا میں تشریف لائے تھے۔پھر میں اس مقدس زمرہ انبیاء کی اس اجماعی سنت کو کیسے یکسر نظر انداز کر ڈالوں اور مودودی صاحب کے اس اشترا کی دعویٰ کو تسلیم کرلوں کہ ”جو کوئی حقیقت میں خدا تعالیٰ کی زمین سے فتنہ وفسادکو مٹانا چاہتا ہو اور واقعی یہ چاہتا ہو کہ خلق خدا کی اصلاح ہو تو اس کے لئے محض واعظ اور ناصح بن کر کام کرنا فضول ہے۔“ دیکھئے حضرت نوح کی قوم نے جب آپ پر کھلی کھلی گمراہی پھیلانے کا الزام لگایا تو آپ نے قرآن کریم کے بیان کے مطابق انہیں یہی جواب دیا کہ :۔يُقَومِ لَيْسَ في ضَللَهُ وَلَكِنِى رَسُولُ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ - أَبَلِغُكُم بِسُلْتِ رَبِّي وَ انْصَحُ لَكُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (الاعراف: ۶۲، ۶۳)