مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 64

۶۴ مذہب کے نام پرخون ماحصل کچھ بھی تو نہیں۔اس کے برعکس ایک طریق ایسا ہے جسے اپنانے سے خلق خدا کی خوب خوب اصلاح ہو سکتی ہے اور وہ طریق مودودی صاحب کے الفاظ میں یہ ہے:۔”جو کوئی حقیقت میں خدا تعالیٰ کی زمین سے فتنہ وفساد کو مٹانا چاہتا ہو اور واقعی یہ چاہتا ہو کہ خلق خدا کی اصلاح ہو تو اس کے لئے محض واعظ اور ناصح بن کر کام کرنا فضول 66 ہے۔اسے اٹھنا چاہیے اور غلط اصول کی حکومت کا خاتمہ کر کے غلط کارلوگوں سے اقتدار چھین کر صیح اصول اور طریقے کی حکومت قائم کرنی چاہیے لے “ یہ ہے وہ اصلاح خلق کا مودودی نظریہ جو بعینہ اشترا کی نظریہ بھی ہے اور بظاہر بہت ہی زوداثر اور کار آمد دکھائی دیتا ہے لیکن اس سے متأثر ہونے کے بعد طبعاً دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر یہ نظریہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور اپنے دور رس نتائج کے اعتبار سے بنی نوع انسان کے لئے عظیم الشان فوائد کا حامل ہے تو لازماً خالق فطرت نے انبیاء علیہم السلام کو اصلاح کا یہی مؤثر طریق سکھایا ہو گا اور کتب مقدسہ اٹھ بندے اٹھ تلوار اٹھا“ کے نعرہ ہائے جنگ سے بھر پور ہوں گی یہاں تک کہ ہر دوسرے تیسرے فرمان الہی کے بعد بشدت یہ تقاضا کیا جاتا ہو گا کہ اے خدائی فوجدارو! نصیحت ایک بے کار چیز ہے اس کا خیال تک دل میں نہ آنے دو اور اگر تم بندگان خدا کی اصلاح کا ایک موہوم تصور بھی رکھتے ہو تو حکومت وقت کا تختہ الٹ دو اور بزوران کی شرارتوں کا خاتمہ کر دو مگر حیف ہے اس مکتبہ خیال کے حامیوں پر کہ ایسا ہرگز نہیں۔حیف کہ معاملہ برعکس ہے اور اس مسئلہ پر خالق فطرت کا فیصلہ مذکورہ بالا اشترا کی اور مودودی نظریہ کے بالکل خلاف نظر آتا ہے۔خدا تعالیٰ کی نظر میں تو نصیحت ایک ایسی کارآمد چیز ہے کہ اس عالمگیر نقصان کے زمانہ میں بھی جبکہ انسانیت بحیثیت مجموعی گھاٹے کی طرف جا رہی ہوگی صرف وہی نیک عمل والے مومن کا میاب ہوں گے جن کی شان یہ ہوگی کہ:۔وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر : ٤) وہ حق اور صبر کے ساتھ نصیحت کریں گے حقیقت جہاد صفحہ ۱۱