مذہب کے نام پر خون — Page vii
پیش لفظ (جدید ایڈیشن) ۱۹۵۳ء میں پاکستان کی سرزمین میں فرقہ واریت کے جو کڑوے بیج بوئے گئے تھے بعد کے سیاسی طالع آزماؤں نے ان کی آبیاری کی اور آج یہ حال ہے کہ سارے ملک میں فرقہ واریت کی خاردار جھاڑیاں پھیل گئی ہیں جن سے لاکھوں افراد لہولہان ہوئے اور ملک سے امن اور یکجہتی رخصت ہو گئے ہیں اور آج عالمی سطح پر مسلمانوں کو دہشت گرد اور جہاد کو جارحیت کے مترادف سمجھا جاتا ہے لیکن کیا واقعی اسلام دہشت پسندی اور قتل و غارت گری کی تعلیم دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔اسلام کے تو معنی ہی امن وسلامتی کے ہیں۔قرآن کریم کی تعلیمات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تو فرد، معاشرہ ، قوم اور بین الاقومی سطح پر صلح و آشتی اور امن وسلامتی کی ضمانت دیتے ہیں لیکن پھر یہ فاسد افکار کیسے مسلمانوں کے اذہان میں داخل ہوئے اور کون اس کا ذمہ دار ہے اسلام کے نادان دوست یا متعصب مستشرقین؟ ان سوالات کا جواب آپ کو اس کتاب میں ملے گا۔یہ کتاب سب سے پہلے دسمبر ۱۹۶۲ء میں اردوزبان میں شائع ہوئی تھی۔۱۹۸۹ء میں اس کا انگریزی ترجمہ MURDER IN THE NAME OF ALLAH کے نام سے شائع ہوا تو اہل مغرب کی اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اس میں متعدد ابواب کا اضافہ کیا گیا۔زیر نظر ایڈیشن میں ان ابواب کا اردو ترجمہ شامل کر دیا گیا ہے۔یہ کتاب اردو اور انگریزی کے علاوہ عربی، روسی اور دنیا کی مشہور زبانوں میں اب تک شائع ہوئی ہے اور متعدد زبانوں میں اس کا ترجمہ ہورہا ہے۔اس کا مطالعہ آپ کو اصل حقائق تک پہنچنے میں مدد دے گا۔انشاء اللہ العزیز ناشر