مذہب کے نام پر خون — Page 60
۶۰ مذہب کے نام پرخون ناصحین گذشتہ اور اس دور کے خدائی فوجداروں کی ایک جماعت انسانی دستور کے مطابق ہر سچا عاشق اپنے محبوب کا چہرہ حسین دیکھتا ہے اور سچا غلام اپنے آقا کی طرف خوبیاں منسوب کرتا ہے۔یہ رجحان انسانی فطرت میں اس شدت سے پایا جاتا ہے کہ بسا اوقات ایک عاشق کی آنکھ اپنے محبوب میں وہ حسن بھی دیکھنے لگتی ہے جس کا وہاں کوئی وجود نہیں ہوتا۔عشق ہو تو سیاہ فام لیلیٰ بھی حسین دکھائی دینے لگتی ہے اور لیلیٰ کے کتے میں بھی حسن کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔اس کے برعکس نفرت کی آنکھ سے ہر حسن اوجھل ہو جاتا ہے اور ہر عیب بڑا دکھائی دینے لگتا ہے۔کسی عرب شاعر نے اسی مفہوم کو بڑی عمدگی سے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ :۔وَ عَيْن الرَّضَا عَنْ كُلِّ عَيْبٍ كَلِيْلَةٌ كَمَا أَنَّ عَيْنَ السُّخْطِ تُبْدِي الْمَسَاوِيَا رضامندی کی آنکھ ہر عیب کو دیکھنے سے عاجز ہوتی ہے اسی طرح جیسے ناراضگی کی آنکھ برائیوں کو بڑا کر کے دکھاتی ہے۔“ 66 انسانی فطرت کے اس دستور کے پیش نظر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اشاعت اسلام کے بارہ میں مولانا مودودی صاحب کے بھیانک نظریات پر نظر پڑتی ہے تو طبعا دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ مولا نا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کا دعوی کرتے ہیں پھر فطرت انسانی کے سراسر خلاف ایسی انوکھی راہ کیوں اختیار کی کہ اس حسین چہرہ میں عیب دیکھنے لگے جس میں بہت سے