مذہب کے نام پر خون — Page 57
۵۷ مذہب کے نام پرخون و ہی معصوم یتیم بچہ ہے جس نے ہمارے قبیلہ میں پرورش پائی تھی ؟ نہیں۔آپ نے ایسا کوئی سوال نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ جس قدر قیدی میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ کے ہیں ان کو لے جاؤ وہ آزاد ہیں۔یہ چند کلمات آپ کے بے مثال خلق اور گہری فراست پر وسیع روشنی ڈالتے ہیں۔اول تو ایک دور کی رضاعی ماں کی یاد میں اس قبیلہ کے بعد میں آنے والے ظالموں کو جوا اپنی طرف سے تو آپ کو ہلاک کرنے کی پوری کوشش کر چکے تھے اس طرح معاف فرما دینا ایک بے حد پیارا اور کریمانہ فعل ہے، دوسرے آپ کا یہ فرمانا کہ صرف بنو عبد المطلب کے حصہ کے قیدی آزاد ہیں آپ کی فراست اور خلق کے بعض اور پہلوؤں پر بھی عجیب روشنی ڈالتا ہے۔معلوم ہوتا ہے گو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل تو یہی چاہتا تھا کہ سب کو معاف کر کے آزاد کر دوں مگر چونکہ حضرت حلیمہ کی رضاعت کا تعلق محض آپ کی ذات یا زیادہ سے زیادہ اس واسطہ سے آپ کے خاندان کے ساتھ ہوسکتا تھا اس لئے آپ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ ایک ذاتی تعلق کی بناء پر باقی مسلمانوں کو بھی اس احسان کا پابند کر دوں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ آپ کے رحم و کرم کی خصلت تمام انسانوں میں اپنی وسعت اور گہرائی کے لحاظ سے بے مثال تھی لیکن غیر متوازن نہ تھی۔آپ ایک ایسے رحم دل انسان کی طرح نہ تھے جو اپنے رحم و کرم کے جوش میں دوسروں کے حقوق بھی لوگوں کو بخش دیتا ہے چنانچہ آپ نے ایسا نہ کیا بلکہ جو طریق اختیار کیا وہ جو دو کرم کے آسمان پر ہمیشہ چاند ستاروں کی طرح چمکتا رہے گا۔آپ جانتے تھے کہ اگر اس بارہ میں لوگوں سے مشورہ کرنے کے بجائے میں نے قیدیوں کو آزاد کرنے کی ایک عملی مثال قائم کر دی تو کسی مسلمان گھر میں کوئی قیدی نہ رہے گا۔پس آپ نے ایسا ہی کیا اور جب آپ کے اس فرمان کی خبر عشاق کے کانوں تک پہنچی کہ ”میرے اور بنو عبد المطلب کے حصہ کے سب قیدی آزاد ہیں، تو انہوں نے بے اختیار عرض کی کہ اے ہمارے محبوب مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ “ 66 جو کچھ ہمارا ہے وہ تو سب رسول اللہ ہی کا ہے اور یہ کہتے ہوئے قیدیوں کو آزاد کرنے میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے لگے اور فضا نعرہ ہائے جنگ اور زخمیوں کی چیخ و پکار کے بجائے آزادی کے ترانوں سے گونج اٹھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے حد رحیم و کریم تھے۔بنو طے کے قیدیوں کی آزادی بھی