مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 58

۵۸ مذہب کے نام پرخون آپ کے خلق کے ایک خاص پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔ان قیدیوں کو صرف اس وجہ سے بغیر کسی معاوضہ کے آزاد کر دیا گیا کہ عرب کے ایک مشہور سخی حاتم طائی کی بیٹی جو خود ان قیدیوں میں شریک تھی اپنی آزادی صرف اس شرط پر قبول کرنے کے لئے تیار تھی کہ باقی قیدیوں کو بھی ساتھ رہا کیا جائے۔چنانچہ ایک گزرے ہوئے حاتم کی سخاوت کے نام پر اس کی قوم کے شریروں کو رہا کر دیا گیا اور اس موقع پر بنوعبد المطلب کے قیدیوں کی کوئی شرط نہ رکھی کیونکہ یہاں جس بناء پر قیدیوں کو رہا کیا جارہا تھا وہ سارے عرب میں مشترک تھی۔حاتم کی سخاوت ایک قومی سرمایہ تھی جس پر فخر کرنے میں سارا عرب شریک تھا۔ان حالات پر جب نظر پڑتی ہے تو بے اختیار دل آپ پر درود بھیجنے لگتا ہے اور کسی طرح یقین نہیں آتا کہ اس سراپا رحمت و شفقت اور سب کریموں سے بڑھ کر کریم نبی پر بھی کوئی یہ الزام لگا سکتا ہے کہ آپ کی کوئی ایک جنگ بھی اسلام پھیلانے کی غرض سے تھی یا اس غرض سے تھی کہ تلوار کے پھل سے دلوں کی زمین میں ہل چلا کر اسلام کا بیج بویا جائے۔نظریات کی اشاعت کے یہ تصورات تو کارل مارکس ، لین ، سٹالن کے تصورات تھے۔پھر مولا نا کیوں نہیں سوچتے کہ اس اشترا کی سطح سے بہت بالا تھے اس سید ولد آدم کے خیالات ، جس کی اور ان سدرۃ المنتہی کی بلندیوں تک تھی اور جو تمام مخلوقات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع مقام تک جا پہنچا تھا۔مولانا کی سوچی ہوئی پالیسی کو اس روحانی پالیسی سے کوئی نسبت نہیں ہے جو آپ کی پاک اور شفاف فطرت پر انوار سماوی کی صورت میں نازل ہوئی تھی۔ہاں اس رسول کی پالیسی سے جس کی فراست خدا کی فراست تھی اور جسے خدائے لطیف و خبیر کی طرف سے ایک نہایت باریک بین نظر عطا ہوئی تھی ، بھلا مولانا کی دھندلائی ہوئی ارضی سوچ کو کیا نسبت ہوسکتی تھی ؟ وہ عالم پاک ہے تو یہ دنیا خاک۔مولانا نے جو کچھ کہا بہت برا کہا اور ناحق کہا۔انہیں کب یہ حق پہنچتا تھا کہ اپنے گھناؤنے تصورات کو اس انسان کامل کی طرف منسوب کرتے۔حصول اقتدار کا کیا یہ صرف ایک ہی حیلہ رہ گیا تھا ؟