مذہب کے نام پر خون — Page 55
۵۵ مذہب کے نام پرخون ہزاروں مقتولوں کی لاشیں کہاں ہیں؟ واقعات سخت اور بے درد ہوتے ہیں (کسی کی رعایت نہیں کرتے ) اور یہ ایک واقعی بات ہے کہ جس دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم۔ناقل ) کو اپنے دشمنوں پر فتح حاصل ہوئی وہی دن آپ کو اپنے نفس پر سب سے زیادہ عالی شان فتح حاصل کرنے کا دن بھی تھا۔قریش نے سال ہا سال تک جو کچھ رنج اور صدمے دیئے تھے اور بے رحمانہ تحقیر و تذلیل کی مصیبت آپ پر ڈالی تھی آپ نے کشادہ دلی کے ساتھ ان تمام باتوں سے درگذر کی اور مکہ کے تمام باشندوں کو ایک عام معافی نامہ دے دیاہے ،، یا شائد ہمارے بعض علماء کے دل کی آواز یہ کہے کہ مکہ کے تمام باشندوں کو ایک عام معافی نامہ دے دیا اور اہل مکہ کو بزور مسلمان بنانے کا ایک عظیم الشان موقع خود اپنے ہاتھوں سے کھو دیا۔مگر واقعات سخت اور بے درد ہوتے ہیں اور کسی کی رعایت نہیں کرتے۔ہاں مگر واقعات سے آنکھیں موند لی جائیں تو۔۔۔۔؟ اور واقعات سے آنکھیں موندی جا رہی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سراسر دفاعی جنگوں کو جارحیت اور تشدد کی جنگیں قرار دیا جارہا ہے اور حد یہ ہے کہ یہ بے بنیاد الزام واضح تاریخی حقائق کے باوجود لگایا جاتا ہے۔فتح مکہ سے لے کر وصال نبوی تک ممکن ہے کہ کوئی یہاں پہنچ کر اس وہم میں مبتلا ہو جائے کہ جبری مسلمان کہیں فتح مکہ کے بعد کی جنگوں میں نہ بنائے گئے ہوں۔مگر فتح مکہ کے بعد کی جنگوں پر ایک نظر ڈالنے سے ہی اس وہم کی قلعی کھل جاتی ہے جو غالب کے اس شعر کی مصداق ہے کہ تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے دیکھنے ہم بھی گئے تھے یہ تماشا نہ ہوا ! چنانچہ فتح مکہ کے بعد کے غزوات وسرا یا کے اعدادوشمار یہ ہیں :۔فتح مکہ کے بعد ایسے سرایا جن میں نہ کوئی لڑائی ہوئی نہ کوئی اسیر ہوا نہ مال غنیمت ہاتھ آیا۔۳ انتخاب قرآن مقدمه صفحه ۶۷