مذہب کے نام پر خون — Page 52
۵۲ مذہب کے نام پرخون یہ وہ وقت تھا کہ خدا تعالیٰ اہل مدینہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔تم ( اس شدید خطرہ کو دیکھ کر ) اللہ تعالیٰ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگ گئے تھے۔“ پس ایک طرف تو قرآنی بیان کے مطابق بیرونی خطرہ ایسا شدید تھا دوسری طرف اندرونی خطرہ کی یہ حالت تھی کہ منافق کھلم کھلا مومنوں کے حوصلے پست کرنے میں مصروف تھے۔اسی اندرونی خطرہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اگلی آیت میں فرماتا ہے:۔وَإِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِيْنَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُ إِلَّا غُرُورًا وَاذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَا هُلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا۔۔۔۔۔الآيه (الاحزاب : ۱۳ ، ۱۴) اور جب منافق اور دلوں کے مریض یہ کہہ رہے تھے کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے دھو کہ کے سوا اور کوئی وعدہ نہیں کیا اور جب ان میں سے ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ یثرب کے رہنے والو! ( بھاگنے کا تو کیا سوال ) تمہارے لئے ٹھہرنے تک کی کوئی جگہ نہیں اس لئے (اپنے پہلے دین میں ) پھر جاؤ۔پس ان ہولناک ابتلاؤں کے وقت جبکہ مسلمانوں کو خطرات نے اوپر سے بھی آلیا تھا اور نیچے سے بھی۔اندر سے بھی اور باہر سے بھی۔بنو قریظہ جن کو معاہدہ کی رو سے مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہیے تھا، ان کی کمینگی اور غداری کا یہ حال تھا کہ حملہ آوروں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف عہد و پیمان کرنے لگے۔چنانچہ اس غداری کے نتیجہ میں جنگ احزاب کے بعد جب مسلمانوں نے ان پر غلبہ پالیا اور سزا کی تعیین کا وقت آیا تو ان بدبختوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ رحمۃ للعالمین کے ہاتھ میں چھوڑنے کی بجائے حضرت سعد بن معاذ کے ہاتھ میں دے دیا جن کے حکم سے سارے مرد تہ تیغ کئے گئے۔یہاں سوال زیر بحث یہ ہے کہ کیا ان کو بھی بزور شمشیر مسلمان بنایا گیا؟ نہیں! ہرگز نہیں۔پھر کیا میں مولانا سے یہ پوچھنے میں حق بجانب نہیں ہوں کہ آخر وہ کون لوگ تھے جو اسلام کی تلوار کے اثر سے مسلمان ہوئے؟