مذہب کے نام پر خون — Page 49
۴۹ مذہب کے نام پرخون بنالیا گیا تھا یا جن کے قبول اسلام پر یہ شبہ بھی پڑسکتا ہے۔اب تک جو ہم نے جستجو کی ہے اس سے تو معاملہ بالکل برعکس نظر آ رہا ہے۔بجائے اس کے کہ ہم قیدیوں کے گروہ کے گروہ دیکھیں جو مسلمانوں کی تلواروں کے نیچے کا نپتے ہوئے لَا إِلهَ إِلَّا اللہ پڑھ رہے ہوں ، نظریہ آتا ہے کہ مسلمانوں کی تلواروں کی وجہ سے نہیں بلکہ دشمن کی تلواروں کے خوف کے باوجود اہل عرب مسلسل مسلمان ہوتے چلے جارہے ہیں اور ہم دیکھتے یہ ہیں کہ باوجود اس کے کہ مظلوم مسلمان عملاً مدینہ کی ایک چھوٹی سی بستی میں قید ہیں اندر باہر سے بھی محفوظ نہیں اندر بیٹھے ہوئے یہود جب موقع پاتے ہیں شرارت کرتے ہیں اور باہر سے بھی محفوظ نہیں کیونکہ سارا عرب ان کی جان کا دشمن ہو رہا ہے مگر پھر بھی کچھ سر فروش ایسے ہیں جو مسلمان ہو ہو کر اس جماعت میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔اگر مخالفت کو ایک آگ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے تو مدینہ میں مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ ایک بھڑکتی ہوئی آگ کے بیچ گویا ایک نقطہ کی طرح تھے جسے جلا کر بھسم کر دینے کے لئے اس آگ کی شوریدہ لپٹیں بار بار بلند ہوتیں اور اس کی طرف لپکتی تھیں۔ایک غضب ناک اور مشتعل عرب کے درمیان مدینہ کی کمزور مسلمان اقلیت کی فی الواقع یہی مثال تھی۔یہ میں اس دور کا ذکر کر رہا ہوں جسے دشمنان اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طاقت اور شمشیر کا دور کہتے ہیں۔پس اس دور میں جو لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آ بیٹھتے تھے وہ تو جلانے والوں کو چھوڑ کر جلنے والوں میں شامل ہونے آیا کرتے تھے۔اکثریت کو چھوڑ کر اقلیت کی طرف بھاگتے تھے اور جو لوگ مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور مخالف ماحول ہی میں رہنے پر مجبور تھے ان کی مثال بھی کچھ اس قسم کی تھی جیسے وحشی بھیڑیوں کے ایک غول میں کوئی بھیڑ یا برضا و رغبت اچانک بھیٹر بن جائے۔اس بے چارے کے متعلق یہ کہنا کہ ایک چھوٹے سے بھیڑوں کے گلہ نے جو ایک بھیڑیوں سے بھرے ہوئے جنگل میں گھرا ہوا تھا اسے ڈرا دھمکا کر اور مجبور کر کے بھیٹر بنایا ہے اور اس سے زیادہ تمسخر آمیز دعوئی اور کیا ہوسکتا ہے؟ یہود قبائل اور ان کے قیدیوں کا ذکر میں اس لئے الگ کر رہا ہوں کہ اس اندرونی خطرہ کی طرف بھی قارئین کی توجہ مبذول کراؤں جو ہر وقت مدینہ کے اندر سے انہیں لاحق تھا۔یہ تینوں