مذہب کے نام پر خون — Page 48
سہارے ڈھونڈا کرتے ہیں۔۴۸ مذہب کے نام پرخون تیسرا دور صلح حدیبیہ تا فتح مکہ اس دور میں ہونے والے غزوات وسرایا کی تعداد بائیس ہے۔ان میں سے صرف تین ایسے تھے جن میں جنگی قیدی ہاتھ آئے۔ایک سریہ سمی ( جمادی الآخرے ہجری) ہے جس میں حضرت زید بن حارثہؓ نے بنید ڈاکو اور اس کے ساتھی لیٹروں پر چڑھائی کی اور سولٹیروں کو اسیر بنایا مگر تو بہ کا وعدہ لے کر چھوڑ دیا اس کے علاوہ سریہ بنو کلاب اور سر یہ بشیر بن سعد انصاری میں چند گنتی کے قیدی ہاتھ آئے مگر ان کے حالات نامعلوم ہیں۔پس اس امر میں کوئی بھی شک نہیں کہ ہجرت سے لے کر فتح مکہ تک ایک بھی قیدی کو بزور شمشیر مسلمان بنانے کا ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی ان سے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ تلوار نے تو صرف زنگ صاف کیا تھا اس کے بعد اسلام کا رنگ ان کے دلوں پر چڑھایا گیا کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ انہیں پھر اسی زنگ آلود شرک کی دنیا میں واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔پھر کیا مولا نا مودودی بتا سکتے ہیں کہ آخر وہ لوگ کون تھے جن کو اپنی تمام اخلاقی اور روحانی قوتوں کی ناکامی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ تلوار کی چمک دکھلا کر مسلمان بنایا تھا؟ وہ کب پیدا ہوئے؟ کس جگہ کے رہنے والے تھے؟ کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے؟ کیا انہیں زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا ؟ اور اگر ان کا وجود محض مولانا کے تصور کی پیداوار ہے اور یقیناً انہی کے تصور کی پیداوار ہے تو پھر کیوں سید ولد آدم پر ایسی سنگین اور بے بنیاد الزام تراشی سے نہیں رکھتے ؟ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مذہب میں جبر کے قائل ہوتے تو کیوں نوک خنجر پر ان بے بس قیدیوں کو مسلمان نہ بنالیا؟ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ مؤخر الذکر دونوں ادوار کے قیدیوں کی تعداد میں یہود قبائل بنو قینقاع، بنونضیر اور بنو قریظہ کے قیدیوں کا شمار شامل نہیں جن کے ساتھ مختلف وقتوں میں مسلمانوں کو مقابلہ کرنا پڑا۔ان کا مختصر ذکر اب علیحدہ طور پر کیا جا رہا ہے۔اس حصہ مضمون کا تعلق محض اس الزام سے ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلبہ اسلام اخلاقی قوتوں کی بجائے تلوار کے زور سے ہوا تھا۔اور ہم اس وقت صرف اس امر کی چھان بین کر رہے ہیں کہ اس تمام جنگی دور میں کل کتنے ایسے قیدی ہاتھ آئے تھے جن کو بزور مسلمان