مذہب کے نام پر خون — Page 35
مذہب کے نام پرخون ایک مصیبت اور خطرہ بن جاتی ہے۔مولا نامودودی کی بعض کتب مثلاً ” الجہاد فی الاسلام“ کے مطالعہ سے میں نے یہ تاثر قائم کیا ہے کہ ان کے ہاں عقل کا قاضی آزاد نہیں بلکہ مخصوص ذاتی رجحانات کا تابع ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنے مهیا شدہ علمی مواد سے جو نتائج اخذ کرتے ہیں وہ سخت مضطرب بلکہ باہم برسر پیکار ہیں۔اسلام سے متعلق مولانا پہلے سے یہ تہیہ کئے بیٹھے ہیں کہ اس مذہب معصوم کو اگر پھیلا یا جا سکتا ہے تو تلوار کے زور سے مگر مشکل درمیان میں یہ آن پڑتی ہے کہ اول تو قرآن اس نظریہ کے مخالف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کے خلاف ہے دوسرے غیروں کی نظر کا کچھ کچھ ڈر وہ کیا کہیں گے کہ اسلام ایک ایسا بہیمانہ مذہب ہے۔بہر کیف مولانا عجیب تذبذب میں مبتلا ہیں جو چاہتے ہیں وہ پوری طرح کہہ نہیں سکتے اور جو کہہ سکتے ہیں وہ دل کی پوری آواز نہیں۔اسی الجھن میں پھنس کر مولانا نے ایک پیچ در پیچ طریق مافی الضمیر کے اظہار کا نکالا ہے۔زیر بحث کتاب میں ابتداء تو اس دعویٰ سے کرتے ہیں کہ اسلام مذہب میں جبر کو روانہیں رکھتا مگر انتہاء اس کے بالکل برعکس دعویٰ پر جا کر ہوتی ہے۔اس کتاب کے شروع میں سارا زور یہ ثابت کرنے پر صرف کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں مدافعانہ جنگیں تھیں اور ان کی غرض یہ تھی کہ انسان کی آزادی ضمیر قائم کی جائے ، جبر و تشدد کے ذریعہ اسلام کو دبانے کے لئے مخالفین کی تمام نا پاک کوششیں ناکام بنادی جائیں اور حق کو ان کی عائد کردہ قیود سے آزاد کیا جائے۔ایک قدم آگے یہ پڑھ کر انسان کا دل خوش ہو جاتا ہے کہ بڑا ہی پاک مذہب ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق ایسی آزاد اور پر امن تعلیم دیتا ہے اور انسان کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی خیالات میں پوری طرح آزاد ہے اور اس پر دوسرے مذہبی نظریات ٹھونسنے کے لئے ہر قسم کا جبر ناجائز ہے لیکن افسوس کہ یہ خوشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی اور مودودی صاحب یہاں پہنچ کر پینترا بدلنے لگتے ہیں اور استدلال کا سارا دھارا اس طرف پھر جاتا ہے کہ کسی طرح اسلام کے ساتھ تشدد کے نظریات کو باندھا جائے۔آپ یہ پڑھ کر حیران تو ضرور ہوں گے کہ اگر پہلے اس نظریے کو تسلیم کر لیا جائے کہ اسلام کی جنگیں محض خود حفاظتی کی جنگیں تھیں اور مذہب میں جبر کے استعمال کے خلاف ایک