مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 33

۳۳ مذہب کے نام پرخون کہ دعوت اسلام تو بھیجی مگر :۔اس کا انتظار نہ کیا کہ یہ دعوت قبول کی جاتی ہے یا نہیں بلکہ قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کر دیا۔۔۔66 آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پالیسی تو ایک معصومانہ پالیسی تھی جو ایک نوزائیدہ بچہ کے دل کی طرح پاک وصاف تھی۔آپ نے تلوار اسی وقت اٹھائی جب آپ پر حد سے بڑھ کر مظالم توڑے گئے۔آپ کے ہاتھ سلامتی کے ہاتھ تھے اور جارحیت کی تلوار سے سراسر نا آشنا تھے۔شریف النفس غیروں نے بھی جب آپ کی اس پالیسی پر نگاہ کی تو اسے کلیتہ سلامتی اور امن اور دفاع کی پالیسی قرار دیا چنانچہ مودودی صاحب کے مندرجہ بالا الفاظ پڑھنے کے بعد اب ایک سکھ معاصر کے الفاظ بھی ملاحظہ فرمائیے:۔ابتدا میں آنحضرت کے مخالفین نے جب آپ کا جینا اجیرن بنا دیا تو آپ نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ چلے جاؤ یعنی اپنے کسی ہم وطن بھائی پر ہاتھ اٹھانے کی بجائے حضور نے اپنا پیارا وطن چھوڑ نامنظور کر لیا۔لیکن آخر کا ر جب ان پر ظلم اور جبر کی حد کر دی گئی تو مجبوراً آپ نے اپنی اور اسلام کی حفاظت میں تلوار اٹھائی یہ پر چار کہ دین کی اشاعت کے لئے جبر کرنا جائز ہے ان احمق لوگوں کا عقیدہ ہے جنہیں نہ دین کی سمجھ ہے نہ دنیا کی۔وہ حقیقی سچائیوں سے دور ہونے کی وجہ سے اس اللہ عقیدہ پر فخر کرتے ہیں اے۔اس پر میں کوئی مزید تبصرہ نہیں کرتا قارئین کا دل خود گواہی دے گا کہ دونوں میں سے کون سچا ہے ایک سکھ جریدہ نگار یا مزاج شناس نبوت“؟ نواں ہندوستان دہلی اشاعت ۴۹۔۱۱۔۱۷