مذہب کے نام پر خون — Page 297
۲۹۷ مذہب کے نام پرخون کے انتہائی سخت اقدامات کے ذریعہ دبا دیا جاتا ہے۔اگر ایمنسٹی انٹر نیشنل اور فلاح عامہ کے دیگر بین الاقوامی ادارے ظلم و تشد د تعذیب و تعذیر اور حقوق انسانی کے برملا اتلاف کے ایسے اندوہناک واقعات کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں تو عالمی حکومتوں کی طرف سے ایسے واقعات کی بہت نرم لہجے میں مذمت کی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد اس امر کے باوجود کہ ظلم بدستور جاری رہتا ہے ، بات آئی گئی ہو جاتی ہے۔کوئی اس طرف دھیان نہیں دیتا کہ مداوا کی کوئی صورت نکالی جائے۔ایسے واقعات کو بالعموم متعلقہ ممالک کے اندرونی معاملات سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔ایسے مظالم کو دہشت گردی قرار دینے کی بجائے الٹا انہیں ایسا رنگ دیا جاتا ہے جس سے وہ دہشت گردی کو دبانے والی مساعی شمار ہوسکیں اور اس طرح دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ امن وامان کو برقرار رکھنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔یہ روش بجائے خود ظلم کی پشت پناہی کے مترادف ہوتی ہے۔میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ حکومتوں کے ایسے جملہ تعزیری اقدامات جو وہ عوامی سطح پر مقبول تحریکوں یا متوقع طور پر زور پکڑنے والی مخالفت کو دبانے اور اس کا گلا گھونٹنے کے لئے کرتی ہیں ہرگز بھی قانونی اقدامات نہیں ہوتے۔اکثر صورتوں میں حکومتیں ایسے اقدامات جائز قانونی حدود میں رہ کر نہیں بلکہ انہیں عمداً تو ڑ کر اور ان سے تجاوز کر کے ہی بروئے کارلاتی ہیں۔یہ اقدامات جلد ہی ایسے متشدد اور ظالمانہ افعال کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جن کا مقصد خود اپنے ہی لوگوں کے غیر مطمئن اور شا کی لوگوں کے دلوں میں دہشت بٹھانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا اسی لئے حکومتوں کے ایسے اقدامات کو دہشت گردی کے زمرہ میں شامل کرنا از بس ضروری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نوع انسانی نے حکومتی سطح پر کی جانے والی اس دہشت گردی کے ہاتھوں عمومی تخریب کاری اور اغوا وغیرہ کے تمام تر واقعات سے کہیں بڑھ کر دکھ اٹھائے اور ظلم سہے ہیں۔جہاں تک اسلام کا تعلق ہے وہ ہر قسم اور ہر نوع کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔وہ کسی بھی قسم کی دہشت گردی ( وہ کسی فرد یا گروہ کی طرف سے کی جائے یا خود حکومتوں کی طرف سے ہو ) کے جواز کا قائل نہیں ہے۔دہشت گردی جس نوع کی بھی ہو اس کے نزدیک بہر حال قابل مذمت ہے۔