مذہب کے نام پر خون — Page 291
۲۹۱ مذہب کے نام پرخون پائے جاتے ہیں تو صرف انہیں ہی مذہبی قرار دے کر اسلامی دہشت گرد کیوں ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے مذا ہب سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد بھی دنیا میں موجود ہیں اور ان کے دہشت گردی کے واقعات اکثر و بیشتر سنے میں آتے رہتے ہیں۔وہ طاقتیں جو ایران اور عراق کو مسلسل ہتھیار مہیا کر کے ان کے مابین جنگ کو طول دینے کے ذمہ دار ہیں وہ جان و مال کے بے انداز ضیاع اور اس کے نتیجہ میں رونما ہونے والے نا قابل بیان مصائب کی ذمہ داری سے کیسے بچ سکتی ہیں۔ان کے اپنے در پردہ مقاصد کچھ ہی ہوں وہ اپنی اس روش سے خمینی ازم کو تقویت پہنچانے میں اور اس کے زیادہ لمبا عرصہ تک زندہ رہنے میں اس کی ممد و معاون ہی ثابت ہوں گی۔اگر متحارب ملکوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا اور انہیں اپنے محدود وسائل پر انحصار کرنے دیا جا تا تو خمینی ازم کا زوال و انحطاط بہت پہلے ہی شروع ہو جاتا۔دوسری چیزوں کے علاوہ عراق ایران جنگ نے قومیت کے جذبہ کوبھی بہت تقویت پہنچائی ہے جس نے ایرانیوں کی توجہ کو داخلی مسائل سے ہٹا کر اسے ایک خارجی اور بیرونی دشمن کی طرف پھیر دیا ہے۔اب اگر ایران میں زیادہ شکوک و شبہات نہ پھیلیں اور وہ خمینی ازم کے لئے ایک کھلے چیلنج اور بغاوت کی شکل اختیار نہ کریں تو یہ امر باعث تعجب ہوگا۔ایران کے اندر انقلاب کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے اور اس کے مثبت و منفی پہلوؤں کو جانچنے کا زبردست رجحان پیدا ہو چکا ہے۔ہر چند کہ ملک میں ممتاز مقام رکھنے والے اہل افراد کے ایک بڑے حصہ کا صفایا ہو چکا ہے پھر بھی جو دانشور زندہ بیچ رہے ہیں وہ لازماً موجودہ انقلاب سے حاصل ہونے والے فوائد اور پہنچنے والے نقصانات کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور ہوں گے۔اس لحاظ سے ایران میں ایک نئے نظام کے قیام کی طرف حرکت کے فوری آثار کا نمودار ہونا بعید از امکان نہیں ہے۔جنگ کے دوران ایرانیوں کے لئے ضرورت اس امر کی تھی کہ عوام کا حوصلہ بلند رہے اور قوت مقاومت میں کمی نہ آنے پائے۔اس ضرورت کو جنگ کی آگ کو زیادہ سے زیادہ بھڑ کانے کے ذریعہ پورا کیا گیا۔جب ایرانیوں کا حوصلہ جواب دے جاے گا تو نتیجہ غیر یقینی صورت حال کا پیدا ہونا ناگزیر ہوگا۔موجودہ برسر اقتدار طبقہ کی بجائے خواہ بائیں بازو والے آگے آئیں یا دائیں بازو والے،