مذہب کے نام پر خون — Page 288
۲۸۸ مذہب کے نام پرخون تجارتی سودا اور لین دین بھلا اور کیا ہوسکتا تھا۔ان طاقتوں نے دومسلمان ملکوں کو باہم لڑا کر ان کا تو کچومر نکال کر رکھ دیا اور خود دونوں ہاتھوں سے ان کی دولت سمیٹ سمیٹ کر اپنی تجوریاں بھر لیں۔جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں اس جنگ کے دوران مسلمان اپنے سب سے بڑے دشمن اسرائیل کو فراموش کر بیٹھے۔الٹا ہوا یہ کہ مسلمان مسلمان کا گلا کا تھا اور اس کا خون بہاتا رہا۔اسلامی دنیا کا تیل خود اسلامی دنیا کی اقتصادیات کو نذر آتش کرنے اور اسے تباہ و برباد کرنے میں بے محابا استعمال ہوا۔گزشتہ ایک صدی کے دوران محنت شاقہ کے شمر کے طور پر جو اقتصادی ترقیاں حاصل ہوئی تھیں کالعدم ہو کر رہ گئیں۔جہاں تک ترقی اور خوشحالی کا تعلق ہے آگے بڑھنے اور پیشقدمی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ایران اور عراق وقت کی رفتار کے برعکس پیچھے کی طرف دوڑنے لگے اور نتائج وعواقت کی پرواہ کئے بغیر اندھا دھند پیچھے کی طرف دوڑتے ہی چلے گئے۔یہ تو صحیح ہے کہ تمام جنگوں کے اقتصادی ترقی ، مادی اور انسانی وسائل ، ثقافتی پیش رفت اور صنعت و حرفت پر تباہ کن اثرات مترتب ہوتے ہیں اور ایک طرح سے سب کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے، ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر دونوں ہی جنگ کی تباہ کاریوں سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں، لیکن ترقی یافتہ ممالک پر جنگ کے تباہ کن اثرات کی نوعیت ترقی پذیر ممالک کے مقابلہ میں قدرے مختلف ہوتی ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں جنگی صنعت کو خود ملکی وسائل اور اتحادیوں کے وسائل کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے اس لئے تباہی کے باوجود جنگی صنعت کی رفتار ترقی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہوتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ جنگ کے بڑھتے ہوئے تقاضوں ، بے پناہ دباؤ اور تنازع للبقا میں پیدا ہو نیوالی شدت ان بڑے ممالک کے وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہوتی ہے۔اس کے باوجود اُن کے سائنسی اور ٹیکنیکل علم میں اضافہ کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے اور وہ اس میدان میں دیکھتے ہی دیکھتے کہیں سے کہیں جا پہنچتے ہیں۔جنگ کے زمانے میں ٹیکنیکل علوم اور مہارت میں جو بے پناہ اضافہ ہوتا ہے اس کو جنگ کے فوراً بعد اقتصادیات کو بحال کرنے اور ہر شعبہ زندگی میں قوم کے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس طرح جنگ کے تباہ کن اثرات کو مٹانے کی راہ بآسانی ہموار کی جاسکتی ہے۔اسی لئے ترقی یافتہ ملکوں کے لئے تباہ کن