مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 280

۲۸۰ مذہب کے نام پرخون شیر وشکر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ چند صدیوں تک ایران پر عربوں کے تسلط کے خلاف ایرانیوں میں بے چینی اور بے اطمینانی کی کیفیت اندر ہی اندر اپنا اثر دکھاتی رہی ہے اور ہنوز دکھاتی چلی آرہی ہے۔پھر اس امرکوملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ ظہور اسلام سے قبل ایران کو تہذیب و تمدن کے ایک عظیم گہوارے کی حیثیت حاصل تھی اور اس کی یہ برتر و اعلیٰ حیثیت اُس کے لئے بجا طور پر باعث فخر تھی۔ایرانی تہذیب ان تہذیبوں میں سے ایک عظیم تہذیب تھی جنہوں نے کرہ ارض کے مختلف حصوں میں آباد نوع انسانی پر اپنے اثرات کے بہت گہرے نقوش ثبت کئے۔ظہور اسلام کے وقت عربوں کے نزدیک دنیا دو عظیم خطوں پر مشتمل تھی۔ان میں سے مغربی خطہ سلطنت روما کے زیر تسلط تھا اور مشرقی خطہ پر ایران کے کسری حکمران تھے اور دور دور تک ان کی حکمرانی کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔اہل ایران کے لئے اپنے اس درجہ شاندار ماضی کی یادیں اگر چہ اسلامی اخوت کے زبر دست اثر کی وجہ سے خاصی حد تک دھندلا گئی تھیں لیکن کلی طور پر وہ محو نہیں ہوسکیں۔ان کا مخفی اثر ہمیشہ جاری رہا ہے بالخصوص ایرانی دانشوروں کے قلوب و اذہان پر ماضی کی عظیم ایرانی تہذیب کے سائے ہمیشہ پڑتے اور اپنا اثر دکھاتے رہے ہیں۔ایرانیوں اور عربوں کی باہمی لڑائیوں اور بالخصوص عرب علاقوں میں ایرانیوں کی انتظامی یلغاروں نے عربوں کی آئندہ نسلوں کے ذہنوں پر بہت برے اور تکلیف دہ اثرات مرتب کئے اور دلوں پر ایسے گہرے زخم لگائے کہ وقت اور زمانہ اپنی تمام تر اند مالی خاصیتوں کے باوجود انہیں پورے طور پر مندمل نہیں کر سکا۔فطرتِ انسانی کی رو سے ایسا ہونا ایک قدرتی امر ہے۔بسا اوقات دنیا میں انسانوں کے لئے ماضی سے اپنا تعلق منقطع کرنا اور خاص طور پر عزت نفس کو مجروح کرنے والے بیتے ہوئے واقعات کو فراموش کرنا بہت مشکل ہو جایا کرتا ہے۔تاریخ کے ایسے تکلیف دہ ابواب کبھی مستقلاً بند نہیں ہوا کرتے بلکہ مختلف اوقات میں بار بار کھلتے رہتے ہیں۔عربوں اور ایرانیوں کے مابین ماضی بعید میں ہونے والے جھگڑوں اور ان کے اثرات کے ذکر کے بعد اب ہم دور جدید یعنی ماضی قریب اور زمانہ حال کی طرف رجوع کرتے ہیں۔باہمی تعلقات میں اتار چڑھاؤ اور ناہمواری کی کیفیت ایرانیوں کے عربوں کے ساتھ تعلقات تک ہی محدود