مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 274

۲۷۴ مذہب کے نام پرخون اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح میرے نزدیک اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح ایک عجیب و غریب اصطلاح ہے۔نہ معلوم یہ اصطلاح ہے کیا اور یہ کیوں وضع کی گئی ہے۔اس بارہ میں حیرت کا اظہار بے سبب نہیں ہے اس لئے کہ اسلام اور دہشت گردی میں با ہم کوئی جوڑ بنتا ہی نہیں۔اگر اسلام اور دہشت گردی میں کوئی تعلق ہوسکتا ہے تو اسی نوعیت کا ہو سکتا ہے جس نوعیت کا تعلق روشنی اور تاریکی کے درمیان ہے یا زندگی اور موت کے درمیان ہے یا پھر امن اور جنگ کے درمیان ہے۔دو متضاد چیزیں یکسر مختلف بلکہ ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باوجود ان معنوں میں ایک دوسرے سے متعلق ہوتی ہیں کہ ایک کا ذکر دوسری کا احساس دلانے کا موجب بنتا ہے۔اسی طرح اسلام اور دہشت گردی میں بعد المشرقین کے با وجود باہم ایک گونہ تعلق تو ہے لیکن اس تعلق کو قربت یا یکسانیت سے ہر گز تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔اسلام اور دہشت گردی کا ایک دوسرے سے واسطہ تو پڑتا ہے لیکن یہ اس نوعیت کا ہی واسطہ ہوتا ہے جس نوعیت کا واسطہ دو مخالف اطراف میں موجود ایسے لوگوں کے مابین ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے مد مقابل صف آراء ہوں۔اسی لئے اسلام اور دہشت گردی باہم متصادم تو ہو سکتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہنسی خوشی با ہم قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلتے نظر آئیں۔تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بہت سے مواقع پر بعض مسلمان ایسے بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو دہشت پسند سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ کبھی تو افراد کے کسی گروہ کی طرف سے یا مسلمانوں کی اکثریت والے کسی ملک کی طرف سے دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔لیکن اس ضمن میں سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایسے مسلمانوں کے علاوہ بھی دنیا میں کچھ ایسے گروہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے دہشت گردی اور