مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 275

۲۷۵ مذہب کے نام پرخون اسی قسم کی دوسری تخریبی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔اب کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ اسی اصول کو بروئے کار لاتے ہوئے جس کی بناء پر اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح وضع کی گئی ہے ہر دیگر دہشت گردی کے لئے اسی طرح کی اصطلاح استعمال کی جائے اور اس طرح سکھ دہشت گردی، ہندو دہشت گردی ، بدھسٹ دہشت گردی ارواح پرستانہ دہشت گردی اور لامذہبیت پر مبنی دہشت گردی کی ایک طویل فہرست معرض وجود میں آجائے۔بد قسمتی سے فی زمانہ دنیا بھر میں قسم ہا قسم کی جو دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے اور روز بروز زور پکڑتی جارہی ہے اس سے چشم پوشی آسان نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بزعم خود کسی برتر نظریہ یا کسی مقدس مقصد کے نام پر دنیا میں کئے جانے والے ظلم و تشد د قتل و غارت اور خون خرابے سے بے خبر رہنا کسی بھی انسان کے لئے ممکن نہیں ہے۔اس زمانہ میں کون ایسا ذی ہوش ہے جس کی حالات پر نظر نہیں۔بہت ہی دل دوز اور خونیں واقعات ہر روز ہر کسی کے علم میں آتے ہیں اور وہ اگر چاہے بھی تو ان سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ کی صورت اختیار کر چکی ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کا وسیع تناظر میں گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے۔جب تک ہم تشدد اور مار دھاڑ کے پس پردہ کارفرما قوتوں سے پوری طرح آگاہ نہیں ہونگے اس وقت تک ہم اس بات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکیں گے کہ بعض مسلم جماعتیں اور مسلم ممالک بھی دوسروں کے دیکھا دیکھی بعض مقاصد کے حصول کی خاطر دہشت گردی کا سہارا کیوں لے رہے ہیں۔میں پورے غور وفکر کے بعد اس حتمی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آج قریباً ہر قسم کا فرقہ وارانہ تشدد جود نیا میں کہیں اور کسی بھی شکل میں پایا جاتا ہے اس کی نوعیت لازمی طور پر سیاسی ہے۔مذہب فی ذاتہ کہیں بھی مفاد پرستی کا کردار ادا نہیں کر رہا برعکس اس کے دنیا میں داخلی یا خارجی سیاسی مقاصد کی خاطر خود مذہب کو مفاد پرستی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔مثال کے طور پر نسلی بنیادوں پر پھیلائی جانے والی دہشت گردی ہی کو لے لیں۔اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو اس تجزیہ کا آخری نتیجہ یہی نکلے گا کہ اس کی نوعیت بھی لازمی طور پر سیاسی ہی ہے۔اسی طرح نسبتاً چھوٹے پیمانے پر کی جانے والی دہشت گردی کی مثالیں بھی ملتی ہیں جو مروجہ سماجی نظاموں