مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 268

۲۶۸ مذہب کے نام پرخون ہے اور یہ کہ وہ لارڈ کلائیو کے خانہ زاد غلام ہیں نیز مسلم لیگ اور قائد اعظم کے بھی دشمن ہیں۔اپنے ایک اور کتا بچہ میں شورش کا شمیری نے بریلویوں کے متعلق لکھا یہ مولا ناحسین احمد مدنی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے بیت الخلاء کی اینٹ سے بھی کم تر درجہ کے لوگ ہیں۔اس قسم کے سوقیانہ حملوں کا بریلویوں نے جو جواب دیا وہ سوقیانہ پن میں اپنی جگہ کچھ کم نہیں ہے۔اہل سنت و الجماعت یعنی بریلویوں کے علماء دیوبندی علماء پر اور دیوبندی علماء بریلوی علماء پر ہتک رسول کا الزام لگاتے ہیں۔دونوں ہی ایک دوسرے کے نزدیک گستاخ رسول ہیں۔اب رہے اہل قرآن وہ جماعت اسلامی کے نزدیک احمدیوں سے بھی بدتر ہیں۔بخشا شیعوں کو بھی نہیں گیا۔ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ و مقام کو گرانے اور کم کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ان کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ ان کے عقیدہ کی رو سے حضرت علی رسول اللہ کی نبوت میں شریک تھے۔یہاں کینیڈا کے سکالر ولفریڈ کینٹویل سمتھ WILFRED CANTWELL SMITH کی رائے کا ذکر بھی بہت ضروری ہے۔وہ بر صغیر آئے ، ہندوستان اور پاکستان کے مسلم معاشرہ کا بہت قریب سے بنظر غائر مطالعہ کیا۔واپس جا کر ” جدید ہندوستان میں اسلام“ ISLAM IN MODERN INDIA کے نام سے کتاب لکھی۔اس میں وہ مسلمانوں کے مذہبی مزاج کے ایک پہلو کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔مسلمان اللہ کی ذات پر حملہ برداشت کر لیں گے لیکن رسول کی ذات پر حملہ ان کے نزدیک ناقابلِ برداشت ہے۔دہریے ان کے درمیان موجود ہیں۔دہریت پر مبنی کتابیں بھی شائع ہوتی ہیں۔اسی طرح آزاد خیال سوسائٹیوں کی بھی ان میں کمی نہیں ہے ، یہ سب ان کے نزدیک گوارا ہے لیکن محمد کی شان میں گستاخی پر معاشرے کے آزاد خیال طبقے بھی بھڑک اٹھیں گے۔کتابچه رضا خوانی فتنہ پردازوں کا سیاہ جھوٹ“ تفصیل کے لئے دیکھیں اسی کتاب کا صفحہ