مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 262

۲۶۲ مذہب کے نام پرخون کی طرف لوٹ کر ایک دوسرے کے ساتھ جنگوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلہ میں پھر الجھ سکتے تھے اور اسلامی اتحاد کا وہ پیغام جس نے ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے متحارب قبائل کو ایک متحد اور طاقتور عرب قوم میں تبدیل کر دکھایا تھا تحت ربود ہو کر رہ جاتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس درجہ فکرمند تھے کہ آپ نے صورتِ حال کو سنبھالنے کے لئے وہاں سے فوری طور پر کوچ کر جانے کا حکم دے دیا۔ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جس وقت آپ نے کوچ کا حکم دیا وہ ایسا وقت تھا جس میں آپ بالعموم سفر پر روانہ نہیں ہوا کرتے تھے۔عبد اللہ بن اُبی نے اس وقت جو فتنہ کھڑا کرنا چاہا تھا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے :- يَقُولُونَ لَبِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِيُخْرِجَنَّ الْأَعَدُّ مِنْهَا الْأَذَلَ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ - (المنافقون: ٩) ترجمہ:- وہ ( یعنی منافقین ) کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو جو مدینہ کا سب سے معزز آدمی ہے وہ مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی کو اُس سے نکال دے گا۔اور عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کو ہی حاصل ہے لیکن منافق جانتے نہیں۔جب عبد اللہ بن ابی کے بیٹے (جس کا نام بھی عبد اللہ ہی تھا ) کو اس سارے واقعہ کاعلم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا :- مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے میرے والد عبد اللہ بن ابی کی کرتوت کے بارہ میں جو سنا ہے اس کی وجہ سے آپ انہیں قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اگر یہ صحیح ہے تو آپ حکم فرمائیے اور مجھے اجازت دیجئے میں خود اس کا سرقلم کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔قبیلہ خزرج کو اچھی طرح پتہ ہے کہ اس قبیلہ کا کوئی آدمی اپنے باپ کا اتنا فرمانبردار نہیں ہے جتنا میں اپنے والد کا فرمانبردار ہوں۔میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ اگر آپ نے میرے سوا کسی دوسرے شخص کو انہیں قتل کرنے کا حکم دیا اور اس نے انہیں قتل کر دیا تو شاید میں اپنے نفس پر قابو نہ پاسکوں اور کسی وقت کوئی جذ بہ ایسا ابھرے کہ میں اپنے باپ کے قاتل کا لوگوں میں چلنا پھرنا برداشت نہ کرسکوں اور