مذہب کے نام پر خون — Page 257
۲۵۷ مذہب کے نام پرخون آپ بعض صحابہ کو اپنے ہمراہ لے کر بعجلت وہاں تشریف لائے۔آپ نے اوس و خزرج کے آمادہ پرکار لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهَ اللَّهَ أَبِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِ كُمْ بَعْدَ أَنْ هَدَاكُمُ اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ، وَأَكْرَمَكُمْ بِهِ، وَقَطَعَ بِهِ عَنْكُمْ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ۔وَاسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِنَ الْكُفْرِ، وَأَلَّفَ بِهِ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ یعنی اے مسلما نو ! خدا کو یاد کروا اور اس سے ڈرو۔کیا تم جاہلیت کے دعووں کی بناء پر ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر تل گئے ہو حالانکہ میں تم میں موجود ہوں؟ یاد کر واللہ نے تمہیں اسلام ایسی راہ ہدایت عطا کی اور اس کے ذریعہ تمہیں عزت بخشی اور اس کے ذریعہ سے تمہیں کفر سے نجات دلائی اور تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے الفت پیدا کر دکھائی (یعنی کیا اس کے بعد بھی تم ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی جرات کرو گے؟) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سن کر اوس و خزرج کے لوگ رو پڑے۔انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔انہوں نے جان لیا کہ یہ دشمن کی ایک چال تھی۔وہ ہمیں ایک دوسرے سے لڑوا کر تباہ کرنا چاہتا تھا۔وہ آپس میں گلے مل مل کر ایک دوسرے سے معذرت کرتے رہے اور خدا تعالیٰ کا شکر ادار کرتے رہے کہ اس نے اپنے فضل سے انہیں تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا۔پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں وہاں سے واپس چلے آئے۔اس موقع پر قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں :- يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا فَرِيقًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ يَرُدُّوكُمْ بَعْدَ إيمَانِكُمْ كَفِرِينَ وَ كَيْفَ تَكْفُرُونَ وَ اَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ أَيْتُ اللهِ وَ فِيكُمْ رَسُولُهُ وَ مَنْ يَعْتَصِمُ بِاللهِ فَقَدْ هُدِى إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ - يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُم مُّسْلِمُونَ - وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ سیرۃ رسول اللہ از ابن ہشام