مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 254

۲۵۴ مذہب کے نام پرخون مقدرت رکھتے تھے۔مدینہ کے یہودی تو تھے بھی بہت زبان دراز اور تیز وطرار اور ان کا استہزاء کا انداز بھی بہت مبتنذل نوعیت کا ہوتا تھا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑانے اور آپ کو استہزاء کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ رحمة للعلمين صلى اللہ علیہ وسلم نے نہ یہود کو اور نہ دوسرے استہزاء کرنے والوں کو اس جرم کی کبھی کوئی سزا دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے جانے کے بعد قریش مکہ نے اسلام کی اشاعت اور روز افزوں ترقی کو روکنے کے لئے یہود مدینہ کے ساتھ ساز باز کا سلسلہ شروع کیا اور جلد ہی دونوں کے درمیان با قاعدہ گٹھ جوڑ قائم ہو گیا۔منافقین بھی پانچویں کالم ( یعنی جاسوسوں ) کے روپ میں وہاں موجود تھے جنہوں نے مخبریاں کر کر کے اندر ہی اندر جڑیں کاٹنے کی مساعی جاری رکھی ہوئی تھیں۔خفیہ ریشہ دوانیوں کے ذریعہ جنگ کی آگ بھڑ کانے کے علاوہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کرنے کی غرض سے پیغام رسانی اور دیگر خفیہ رابطوں کا ایک جال بچھایا ہوا تھا۔باتوں کو پر لگا کر افواہیں پھیلانے والے شاعرا اپنی جگہ مصروف کار تھے۔میکسم روڈنسن MAXIME RODINSON نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ ان شاعروں کی حیثیت اپنے دور کے صحافیوں کی سی تھی اور کار میخائل CARMICHAEL نے انہیں جلتی پر تیل ڈالنے والے یعنی جنگ کی آگ بھڑ کانے والے قرار دیا ہے۔بہر حال اس وقت اسی قسم کے شاعر تھے جنہوں نے اپنے اشعار کے ذریعہ مدینہ کے مسلمانوں کو یہ جتلا جتلا کر مطعون کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا کہ انہوں نے باہر سے آوارد ہونے والے ایک اجنبی کی اطاعت قبول کر کے اپنی عزت خاک میں ملا دی ہے۔ابو عفک نامی ایک شاعر ے حوالہ کے لئے دیکھیں میکسم روڈنسن کی کتاب ”محمد " صفحہ ۱۷۴ متر جم رینے کارٹر ( نیو یارک ۱۹۷۱ء) (ب) جوئیل کار میخائل JOEL CARMICHAEL نے لکھا ہے بدوؤں میں ایک قبائلی شاعر محض شعر گوئی نہیں کرتا تھا بلکہ اس کی حیثیت جنگ کی آگ بھڑ کانے والے کی ہوتی تھی۔اس کی نظموں کو باقاعدہ جنگ کا آغاز تصور کیا جاتا تھا۔حوالہ کے لئے دیکھیں کتاب SHAPING OF ARAB A STUDY IN ETHNIC IDENTITY (- NEWYORK 1967 P۔38