مذہب کے نام پر خون — Page 252
۲۵۲ مذہب کے نام پرخون عقید ہ قتل مرتد کے حامی ایسے مسلمان کی فوڑا گردن اڑا دیں گے۔اس عقیدہ کی روشنی میں اسلامی تصور عدل کی کیسی افسوسناک صورت ابھر کر دنیا کے سامنے آتی ہے۔آخر میں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ ارتداد نام ہے کسی شخص کے ایسے مذہب سے واضح اور کلی انکار کا جس کے ساتھ وہ پہلے وابستہ تھا۔عقائد کے بارہ میں اختلافات کو خواہ وہ کتنی ہی شدید نوعیت کے کیوں نہ ہوں ارتداد کا نام نہیں دیا جاسکتا۔مزید برآں خود اسلام کی رو سے کسی کو ارتداد کی سزا دینا صرف اور صرف خدائے قادر کے اختیار میں ہے کیونکہ جو شخص بھی اسلام کو ترک کر کے اپنے مرتد ہونے کا خود اعلان کرتا ہے وہ صرف اور صرف اسلام کو بھیجنے والے کا مجرم ہے نہ کہ کسی اور کا۔وہ ارتداد جس کے ساتھ واضح طور پر کسی اور قابل تعزیر جرم کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو اور اس طرح اس کے نئے نئے شاخسانے نہ نکالے گئے ہوں اس دنیا میں ایسے ارتداد کی کوئی سزا مقرر نہیں ہے۔اس لحاظ سے محض ارتداد اس دنیا میں قابل سزا جرم شمار ہی نہیں ہوتا۔یہی وہ تعلیم ہے جو خدا اور اس کے رسول نے دی ہے اور یہی وہ نظریہ ہے جس کی حنفی فقہا ہے فتح القدیر کے چیپی کے، حافظ ابن قیم ، ابراہیم نخعی ، سفیان ثوری اور بہت سے دوسرے فقہاء نے تصدیق کی ہے۔مودودیوں کا اس حدیث کے بارہ میں ( جسے وہ مستند سمجھتے ہیں ) متفق علیہ ہونے کا دعویٰ محض ایک فسانہ ہے اس سے زیادہ اس کی اور کوئی حیثیت نہیں ہے۔لهداية فتح القدير جلد ۴ صفحه ۳۸۹ جلد ۳ صفحه ۵۸۰ چیلپی شرح فتح القدير صفحه ۳۸۸