مذہب کے نام پر خون — Page 235
۲۳۵ مذہب کے نام پرخون ایسے بنیادی اختلافات پیدا ہو جا ئیں تو اس قسم کی احادیث کو مستند احادیث کے طور پر کیسے قبول کیا جاسکتا ہے۔لوگ کسی کی کہی ہوئی بات کو تو بھول سکتے ہیں لیکن اگر وہ کسی واقعہ کے عینی شاہد ہوں تو انہیں کم از کم اتنا تو یادر ہے گا کہ بالآخر اس مرتد کا انجام کیا ہوا اور یہ کہ اس کے ساتھ کیا گزری۔کسی حدیث کی صحت کو جانچنے کے مسلمہ اصول اب ہم اس حدیث کی طرف آتے ہیں جسے سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے کیونکہ اس مکتب فکر کی طرف سے جو ارتداد کی پاداش کے طور پر سزائے قتل کا حامی ہے اسے معتبر گردان کر اس پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔اس مکتب فکر کے استدال کا تمام تر انحصار اس حدیث پر ہوا ہے۔خاص اس حدیث پر بحث کو عمدا اس لئے مؤخر کیا گیا ہے تاکہ مسئلہ زیر بحث پر سلسلہ وار دیگر مواد کے زیر غور آنے کی ترتیب میں فرق نہ آئے اور آخر میں خاص اس حدیث کے تمام پہلوؤں پر تدبر اور تفکر کا مالہ و ما علیہ کے رنگ میں تحقیق و تدقیق کا حق ادا ہو سکے لیکن اس حدیث کے تفصیلی جائزہ سے پہلے اس بارہ میں بعض اصولوں کے انطباق سے متعلق بعض پہلوؤں کی وضاحت ضروری ہے۔یہ وہ مسلمہ اصول ہیں جو ہر زمانہ کے مسلمان علماء کے نزد یک قابل قبول رہے ہیں اور ان اصولوں کو تسلیم کرنے سے کبھی کسی عالم نے انکار نہیں کیا۔یہ اصول قرآن مجید اور کسی حدیث کے مابین یا خود متعدد حدیثوں کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو حل کرنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔مختصر اوہ اصول یہ ہیں :- (۱) خدا تعالیٰ کا کلام سب سے فائق اور سب سے مقدم ہے۔(۲) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا درجہ ہے جسے بالعموم سنت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔(۳) اس کے بعد درجہ ہے احادیث کا جو روایت در روایت ہم تک پہنچی ہیں اور روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد فرمودہ الفاظ پر مشتمل ہیں۔(() اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد فرمودہ الفاظ کا مستند ہونا ہر لحاظ سے مسلّم ہو اور اس کے مسلم ہونے پر کسی قسم کے اعتراض کی سرے سے کوئی گنجائش نہ ہو تو ایسے الفاظ فی الاصل وہ الفاظ ہیں جو خدائے قادر نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے کہلوائے۔