مذہب کے نام پر خون — Page 230
۲۳۰ مذہب کے نام پرخون (ل) زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق بڑے پیمانے پر رونما ہونے والے واقعات کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں (ملاحظہ ہوں صفحات ۲۰۲ تا ۲۰۶)۔عبس اور ذبیان وہ دو قبائل تھے جنہوں نے مدینہ پر حملہ آور ہو کر جارحیت کا آغاز کیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت اسامہ کے اپنی مہم سے واپس آنے سے قبل ہی فوج کشی کر کے ان کے خلاف جہاد کیا۔اس سے ظاہر ہے کہ مرتدین جارح تھے کیونکہ وہ لڑائی میں پہل کر کے کھلی کھلی جارحیت کے مرتکب ہوئے تھے۔انہوں نے نہ صرف یہ کہ زکوۃ ادا کرنے سے انکار کیا تھا بلکہ وہ مسلمانوں پر تلواریں سونت کر حملہ آور بھی ہوئے تھے۔وہ مرتد ہی نہیں بلکہ اسلامی حکومت کے باغی بھی تھے۔انہوں نے اپنے درمیان رہنے والے مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا تھا ، ان میں سے بعض کو زندہ جلا ڈالا تھا اور جنہیں قتل کیا تھا ان کے ناک ، کان اور بعض دیگر اعضاء کاٹ کر ان کا مثلہ بھی کیا تھا۔جو لوگ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر یہ قرار دیتے ہیں کہ مرتد کی سزا قتل ہے وہ یا تو تاریخی حقائق سے ناواقف ہیں یا باغیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل پر پردہ ڈال کر عمد الوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔(ب) پھر ارتداد کے لئے سزائے قتل کے حامی یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر ارتداد کی کوئی سزا مقرر نہ تھی تو مسیلمہ کذاب کو اس کے حال پر کیوں نہ چھوڑ دیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ مسیلمہ سیاسی اقتدار کا خواہاں تھا۔وہ بنو حنیفہ کی معیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا بھی تھا اور اس نے اس شرط پر آپ کی اطاعت قبول کرنے کی پیشکش کی تھی کہ آپ اسے اپنا جانشین مقرر فرماویں۔آپ نے جواباً فرمایا تھا میں اسے (مسیلمہ کو ) کھجور کے درخت کی ایک شاخ بھی دینے کے لئے تیار نہیں۔یہ جواب سن کر مسیلمہ واپس چلا گیا اور اس امر کا مدعی بن بیٹھا کہ آدھا عرب اس کی ملکیت ہے۔اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خط بھی بھجوایا جس میں اپنے اس دعوے کا اعلان کیا کہ ”میں اقتدار میں تمہارا شریک اور حصہ دار مقرر کیا گیا ہوں۔آپ نے اس خط کے جواب میں سورۃ الاعراف کی آیت ۱۲۹ قال موسى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللهِ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ فَ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ -