مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 221

۲۲۱ مذہب کے نام پرخون آیت ۳- وَآذَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَقِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللهَ بَرِى مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ فَإِنْ تُبْتُم فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى اللهِ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ - اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں میں حج اکبر کے دن یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ اور اسی طرح اس کا رسول بھی مشرکوں (کےسب الزاموں ) سے بری ہو چکے ہیں۔سواگر ( فتح مکہ کا نشان دیکھ کر ) تم تو بہ کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم پیٹھ پھیر لو تو تم ہرگز اللہ کو ہرا نہیں سکتے اور تو کفار کو خبر دے کہ ان کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے۔آیت ۴ - إِلَّا الَّذِينَ عَهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوكُمْ شَيْئًا وَ لَمْ ط يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلى مُدَّتِهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ - ہاں مشرکوں میں سے جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے اور پھر انہوں نے تم سے بالکل عہد شکنی نہیں کی اور تمہارے خلاف کسی کی مدد نہیں کی تم ان کے عہد کو عہد کی مدت مقررہ تک نبھاؤ۔اللہ یقیناً متقیوں کو پسند کرتا ہے۔آیت ۵- فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَ خُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَ اقْعُدُوا لَهُمْ كُلَ مَرْصَرٍ ۚ فَإِنْ تَابُوا وَ أَقَامُوا الصَّلوةَ ط وَاتَوُا الزَّكوة فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ۔پس جب وہ چار مہینے گزر جائیں جن میں لڑائی سے منع کیا گیا تھا تو مشرکوں کے اس خاص گروہ کو جہاں بھی پاؤ قتل کرو اور ان کو گرفتار کر لو اور ان کو ان کے قلعوں میں محصور کر دو اور ہر گھات کی جگہ پر ان کے لئے بیٹھو۔پس اگر وہ تو بہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو ان کا راستہ کھول دو۔اللہ یقیناً بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔آیت ۶ - وَ اِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَاجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلمَ اللَّهِ