مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 209

۲۰۹ مذہب کے نام پرخون مطابق ۷۴۴ عیسوی) نے لکھا ہے : مسلمانوں کو اپنے باہمی تنازعات کے بارہ میں یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ تحکیم کے ذریعہ ان کا فیصلہ کریں لے حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر دو مسلمان گروہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہوں تو دوسرے مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ان میں صلح کرا دیں۔چنانچہ قرآن مجید کہتا ہے :- إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الحجرات: ١١) مؤمنوں کا رشتہ آپس میں بھائی بھائی کا ہے پس تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان جو آپس میں لڑتے ہوں صلح کرا دیا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔مسلمانوں کو کا فرقرار دینا اور پھر انہیں اس بناء پر سزا دینا کہ ان کے ایمان کا معیار کسی خاص مستند شخصیت کے معیار سے مختلف ہے۔اس نوع کی تکفیر بازی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس قسم کی تکفیر بازی کا نظریہ اپنی بنیاد اور اصل کے لحاظ سے سراسر غیر اسلامی ہے۔خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی یہ تعریف فرمائی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لاتا ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت پر ایمان لانے کا اقرار کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔۔صرف اور صرف یہی وہ تعریف ہے جس پر کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کو پرکھا جاسکتا ہے۔تکفیر کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے مسٹر برنارڈ لیوٹس لکھتے ہیں :- کھلی کھلی بغاوت کا بھی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بغاوت کرنے والے از خود تکفیر کی زد میں آجاتے ہیں۔۹۲۳ عیسوی میں قاضی القضاۃ بہل نے قرامطی باغیوں کو کافر قرار دینے سے اس بناء پر انکار کر دیا تھا کہ وہ اپنے خطوط اللہ تعالیٰ کے نام اور رسول پر صلوۃ و سلام سے شروع کرتے تھے۔صرف اتنی بات سے ہی ان کا مسلمان ہونا مسلم تھا۔حضرت امام شافعی کی فقہ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھنے والا خواہ وہ بغاوت ہی کا کیوں نہ مرتکب ہوا ہو اس امر کا سزاوار ہے کہ اسے مسلمان تسلیم کیا لے صحیح مسلم مع شرح النووى ( لاہور ۱۹۵۸، ۱۹۶۲) جلد دوم صفحه ۱۱۲، ۱۱۳ (لا صحیح البخاری و صحیح مسلم کتاب الایمان