مذہب کے نام پر خون — Page 197
۱۹۷ مذہب کے نام پرخون اے اہل کتاب ! تم جانتے بوجھتے ہوئے کیوں حق کو باطل کے ساتھ ملاتے اور حق کو چھیاتے ہو؟ (۲) وَ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ أمِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجَهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا أُخِرَةَ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (ال عمران: ۷۳) اور اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ مؤمنوں پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر دن کے ابتدائی حصہ میں تو ایمان لے آؤ اور دن کے پچھلے حصہ میں اس سے انکار کر دو۔شاید اس ذریعہ سے ) وہ پھر جائیں۔ابن الحق نے ان یہودیوں کے نام بھی درج کئے ہیں جنہوں نے سورۃ آل عمران کی آیت ۷۳ میں مذکور منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا تھا۔چنانچہ اس نے لکھا:- عبد اللہ بن ضیف، عدی بن زید اور الحارث بن عوف نے متفقہ طور پر اس امر کا فیصلہ کیا کہ وہ ایک وقت میں تو جھوٹ موٹ یہ ظاہر کریں گے کہ وہ محمد اور اس کے ساتھیوں کے پیغام پر ایمان لے آئے ہیں اور پھر ان کے ذہنوں میں الجھن پیدا کرنے کے لئے دوسرے وقت میں اس کا انکار کر دیں گے۔مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح وہ مسلمانوں کو اس امر کی ترغیب دیں گے کہ وہ بھی ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے مذہب سے منحرف ہو جا ئیں۔ان تینوں یہودیوں میں سے کسی ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی۔پھر سورۃ النساء میں بھی اس امر کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے :- إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ اَمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا (النساء: ۱۳۸) اور جولوگ ایمان لائے پھر انہوں نے انکار کر دیا، پھر ایمان لائے اور پھر انکار کر دیا، پھر کفر میں اور بھی بڑھ گئے، اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کر سکتا اور نہ انہیں نجات کا کوئی رستہ ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۳۸۴