مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 194

۱۹۴ مذہب کے نام پرخون تھی اور مخلص مسلمان بن گئے تھے۔جہاں تک اُن منافقوں کا تعلق ہے جنہیں سزا ملنی تھی ان کے متعلق اگلی آیات میں سے ایک آیت میں مذکور ہے :- وَعَدَ اللهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَالْكَفَارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا هِيَ حَسْبُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ (التوبة: ٦٨) اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کفار سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے وہ اس میں رہتے چلے جائیں گے وہی ان کے لئے کافی ہے۔اللہ نے ان کو دھتکار دیا ہے اور ان کے لئے ایک قائم رہنے والا عذاب مقدر ہے۔اور آخر میں مزید فرمایا :- ج يَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَ هَمُوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا ۚ وَمَا نَقَمُوا إِلَّا اَنْ اَغْنُهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ ۚ فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ وَ إِنْ يَتَوَلَّوا يُعَذِّبُهُمُ اللهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِي وَلَا نَصِيرٍ ( التوبة : ٧٣) وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بات نہیں کہی حالانکہ انہوں نے کفر کی بات کہی ہے اور اسلام لانے کے بعد کفر کیا ہے اور ایسی باتوں کا ارادہ کیا ہے جن کو وہ حاصل نہیں کر سکتے اور انہوں نے مسلمانوں سے صرف اس لئے دشمنی کی کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو اپنے فضل سے مالدار بنادیا تھا۔پس اگر وہ تو بہ کریں تو ان کے لئے اچھا ہوگا اور اگر وہ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں تو اللہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی درد ناک عذاب دے گا اور اس جہان میں نہ کوئی ان کا دوست ہوگا اور نہ مددگار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ عبداللہ بن اُبی بن سلول منافقوں کا سردار ہے لیکن آپ نے اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا۔اس سے بڑھ کر یہ کہ جب اس نے وفات پائی تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ پڑھانے کے واقعہ کا حضرت عمرؓ نے ان الفاظ میں ذکر کیا:- لے اس آیہ کریمہ میں ارتداد اختیار کرنے والے منافقوں کو ملنے والی سزا کا زیادہ پرزور انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔