مذہب کے نام پر خون — Page 13
مذہب کے نام پرخون عفو کے وہ کمال دکھائے کہ عقل انسانی حیران ٹکٹکی باندھے دیکھتی ہے کہ یہ کون لوگ تھے اور کیسے ان ارفع مقامات تک جا پہنچے۔چنانچہ اس وقت جب کہ خدائی نصرت کے وعدوں کے ایفاء کا وقت آیا اور کفار مکہ کی گردنیں ان کے ہاتھ میں دی گئیں۔جب دس ہزار قدوسیوں کی چمکتی ہوئی تلواروں کی زد میں عرب کے سفاک سرداروں کے بدن کانپنے لگے تو مکہ کی اینٹ اینٹ گواہ ہے کہ تاریخ عالم نے ایک عجیب معاملہ دیکھا اور قتل عام کے فرمان کے بجائے مکہ کی فضاؤں میں لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف: ۹۳) کے شادیانے بجنے لگے۔اس روز دنیا کے ظالم ترین انسان معاف کئے گئے۔تپتی ریت پر بے کس غلاموں کو لٹانے والے بھی معاف کئے گئے۔چلچلاتی دھوپ میں مکہ کی گلیوں میں ناداروں کو گھسیٹنے والے بھی معاف کئے گئے۔اس روز معصوم انسانوں پر پتھروں کی بارش برسانے والے بھی معاف کئے گئے اور قاتل اور فسادی اور بد عہد اور لٹیرے بھی معاف کر دیئے گئے اور ابھی کچھ مدت نہ گزری تھی ان سنگ دلوں کو بھی معاف کر دیا گیا جنہوں نے معزز انسانوں کے سینے چیر کر ان کے دل اور جگر چہالئے تھے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيْمَ وَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور تک کی ساری مذہبی تاریخ بھی مٹا دی جائے اور آپ کے وصال سے لے کر آج تک کی تاریخ کو بھی ملیا میٹ کر دیا جائے تو بھی اس بزرگ نبی کی چند سالہ تاریخ ہی اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مذہب انسان کو ہر گز نفرت نہیں سیکھا تا ظلم و تعدی اور شقاوت اور سفا کی کے سبق نہیں دیتا بلکہ اس کے برعکس رحم اور شفقت اور صبر اور بردباری کی تعلیم دیتا ہے۔صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ وہ رحمةٌ لِلعالمین ظلم کے انسداد کے لئے ایک قدم اور آگے بڑھا اور خدا سے وحی پا کر ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ اعلان عام کر دیا کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ دین کے نام پر کوئی جبر جائز نہیں اور اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ - حق اپنے نورانی چہرہ کے ساتھ ممتاز ہو گیا اور کھی کے ساتھ اس کے اشتباہ کا کوئی سوال باقی نہیں رہا۔