مذہب کے نام پر خون — Page 14
۱۴ مذہب کے نام پرخون یہ اعلان اس پس منظر میں ایک عجیب اعلان نظر آتا ہے۔ایک طرف تو ظالم ہیں جو ظلم وتعدی کے ساتھ چند کمزور اور نا تواں لوگوں کو ارتداد کے جرم کی سزا میں صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں اور مجبور کر رہے ہیں کہ یہ نیا مذہب چھوڑو اور اپنے پہلے مذہب میں واپس آجاؤ اور دوسری طرف اس مذہب کے ماننے والے جب قوت پکڑ جاتے ہیں تو باوجود اس قوت کے ان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ لا إِكْرَاةَ في الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ، فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرُوةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا (البقرة: ۲۵۷) کہ دین میں کوئی جبر نہیں حق اپنی تمام صداقتوں کے ساتھ واضح ہو چکا ہے اور کجی کا رستہ ایک ایسا رستہ ہے جسے حق کے ساتھ مشتبہ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔پس جو خدا تعالیٰ پر ایمان لائے گا اس کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے ایک مضبوط کڑے پر اس کا ہاتھ پڑ جائے جس کڑے کے لئے ٹوٹنانہ لکھا ہو۔یہ اعلان کتنا شاندار اور کیسا پر امن اعلان ہے! پس اے مذہب کے نام پر ظلم کرنے والو! تم مذہب کی حقیقت ہی سے نا آشنا ہو۔مذہب تو دلوں کی تبدیلی کا نام ہے۔مذہب کوئی سیاسی جماعت نہیں ، مذہب کوئی قوم نہیں ، مذہب کوئی ملک نہیں ، مذہب تو وہ پاک روحانی تبدیلی پیدا کرنے کے لئے آتا ہے جو دلوں کی گہرائیوں میں ہوتی ہے اور جس کا تعلق روح کے ساتھ ہے۔کوئی تلوار اور کوئی طاقت اور کوئی جبر اور کوئی تشد دخواہ کتنا ہی ہیبت ناک کیوں نہ ہو دلوں کو تبدیل کرنے کی اتنی بھی طاقت نہیں رکھتا جتنی ایک حقیر چیونٹی بلند و بالا پہاڑوں کو اپنی جگہوں سے ٹلانے کی رکھتی ہے۔پھر ایک دوسری جگہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اعلان فرمایا کہ وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَ مَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف:۳۰) کہ کہ دو کہ حق تو تمہارے رب کی طرف سے آچکا اس کے بعد کسی جبر کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔حق تو کہتے ہی اس چیز کو ہیں جو دلوں کو اپنی صداقت کے ساتھ منوائے جس کا لوہا روحیں مانیں۔جس کا جسم کے جبر و تشدد کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔پس فرمایا کہ یہ اعلان کر دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے آپکا فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ اب تمہیں اختیار ہے چاہو تو ایمان لاؤ چاہو تو ایمان نہ لاؤ۔پھر ایک دوسری جگہ فرمایا : إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا (الدهر : ٣٠) کہ یہ تو ایک نصیحت کی بات ہے فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلى رَبِّهِ سَبِيلًا پس اس نصیحت سے متاثر ہو کر جو