مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 189

۱۸۹ مذہب کے نام پرخون اپنے اپنے دین پر قائم رہنے اور اُس پر عمل کرنے میں آزاد ہیں۔جس کسی کو جو مذہب پسند ہوا سے اس مذہب کو اختیار کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی پوری پوری آزادی حاصل ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی بار بار بتایا گیا کہ اگر کفار آپ کے لائے ہوئے پیغام کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تو آپ اس پر دلگیر نہ ہوں۔آپ ان کے ایمان لانے یا نہ لانے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُ قُلْ تَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ (الانعام: ۲۷) ترجمہ۔تیری قوم نے اُس پیغام کو جو ہم نے تیرے ذریعہ بھیجا ہے مسترد کر دیا ہے حالانکہ وہ پیغام سراسر سچائی پر مبنی ہے تو اُن سے کہہ دے میں تم پر نگران مقرر نہیں کیا گیا ہوں۔یہ اعلان مکی دور میں کیا گیا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو مذہب کے نام پر تعزیر وتعذیب کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔بعد ازاں جب آپ مدینہ تشریف لے آئے تو اس امر کے باوجود کہ وہاں آپ کو قوت و اقتدار حاصل تھا مذہبی آزادی کا یہ چارٹر علی حالہ قائم رہا۔نہ صرف یہ کہ یہ چارٹر منسوخ نہیں ہوا بلکہ یہ زیادہ واضح اور قطعی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔پہلی مدنی سورۃ جس میں آزادی ضمیر کے موضوع پر زیادہ تفصیل سے بحث کی گئی ہے سورۃ البقرۃ ہے۔اس سورۃ کی آیت ۷ ۲۵ اس موضوع سے متعلق واضح ترین اعلان پر مشتمل ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرة: ۲۵۷) ترجمہ:- دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں۔ہدایت اور گمراہی کا فرق خوب الانبیاء کی آیت ۱۰۸ ، یونس کی آیت ۱۰۹، بنی اسرائیل کی آیت ۵۵ ، الزمر کی آیت ۲۴ ، الشورا ی کی آیت ۷ بھی اسی موضوع سے متعلق ہیں۔لفظ وکیل کی تشریح امام فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر ( قاہرہ ۱۳۰۸ ھ ) جلد چہارم صفحه ۳۶،۲۶ میں نیز محمد عبدہ کی تفسیر القرآن میں اور محمد رشید رضا کی تفسیر المنار ( بیروت ۱۳۳۷ھ ) جلد هفتم صفحات ۵۰۱ تا ۵۰۳، ۲۶۲، ۲۶۳ میں دیکھی جاسکتی ہے۔