مذہب کے نام پر خون — Page 188
۱۸۸ مذہب کے نام پرخون رڈ کا لفظ فعل لازم ہے اس کا مادہ ہے ردد اس کا فعل متعدی ہوتا ہی نہیں۔ایک آدمی خود تو دین سے پھر سکتا ہے کوئی دوسرا شخص اس پر ارتداد کوٹھونس کر اسے مرتد نہیں بنا سکتا۔دین سے پھر جانا ایک رضا کارانہ عمل ہے۔اس میں کسی بیرونی آلۂ کار یا واسطے کی شرکت و مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آزادانہ ارادے اور مرضی کا ہونا وہ ما بہ الامتیاز ہے جو ارتداد کو اس کے مسیحی اور مودودی تصور سے الگ کر دکھاتا ہے۔ارتداد کے پس پردہ اُلٹے پاؤں پھر جانے والے کا رضا کارانہ ارادہ اور مرضی لازمی طور پر کار فرما ہوتی ہے جبکہ مسیحی اور مودودی تصور جیسا کہ ہم گزشتہ باب میں واضح کر چکے ہیں اس سے یکسر مبرا ہے۔اس انوکھے تصور کی رو سے ارتداد دوسروں کی اپنی مرضی کے برخلاف ان پر ٹھونسا جاتا ہے اور انہیں زبردستی مرتد قرار دیا جاتا ہے۔ان کے نزدیک ارتداد اور پھر اس کی سزا کے لئے ایک بیرونی اتھارٹی یعنی مقتدرہ کا ہونا ضروری ہے۔وہ صاحب اقتدار ادارہ چرچ کی شکل میں مذہبی بھی ہوسکتا ہے اور حکومت کی شکل میں غیر مذہبی بھی۔بات واضح کرنے کی خاطر از راہ امتثال کہا جا سکتا ہے کہ ان کا یہ تصور پھانسی یا قتل کے مترادف ہے جبکہ ارتداد خودکشی کے ذیل میں آتا ہے۔ایک شخص دوسرے کو پھانسی دے سکتا یا قتل کر سکتا ہے اُس کو خود کشی کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتا۔سورۃ الکافرون جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد ابتدائی زمانہ میں نازل ہوئی تھی ، آزادی ضمیر سے متعلق براہ راست ایک پالیسی بیان کی حیثیت رکھتی ہے۔اس سورۃ میں رسول اللہ سے کہا گیا کہ آپ کا فروں کو بتا دیں کہ زندگی گزارنے اور بسر کرنے کے اُن کے طریق اور آپ کے طریق میں باہمی میل ملاپ یا اشتراک و تعاون کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔مذہب کے بنیادی تصورات ہی میں نہیں بلکہ ان کی تفصیلات میں نیز زندگی کے دیگر پہلوؤں میں بھی دونوں کے درمیان بعد المشرقین پایا جاتا ہے اس لئے دونوں میں کسی مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لہذا یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ لكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دِينِ (الكافرون :) ترجمہ : - تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین۔یعنی اے کا فرو! تم اپنے دین پر عمل پیرا ر ہو اور میں اپنے دین پر عمل پیرا رہوں۔دونوں