مذہب کے نام پر خون — Page 187
۱۸۷ مذہب کے نام پرخون دھونا پڑیں گے اسی لئے آپ نے اسامہ سے یہ عہد لیا کہ وہ آپ کے وصال کے بعد بھی کسی کلمہ گو کو قتل نہیں کریں گے۔مسند احمد بن حنبل میں درج شدہ روایت کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید سے یہ بھی فرمایا۔کیا تم نے اس شخص کا جسے تم نے قتل کر د ی دل چیر کر یہ تسلی کرلی تھی کہ واقعی اس کا دل ایمان سے خالی ہے؟۔مراد اس سے آپ کی پیتھی کہ دل کا حال تو خدا جانتا ہے۔ایک انسان دوسرے انسان کے دل کا بھید کیسے جان سکتا ہے؟ اس لئے ایمان کے معاملہ میں زبانی اقرار ہی کافی ہے اور اس اقرار سے ہی اقرار کرنے والے کے جان و مال کو تحفظ حاصل ہو جاتا ہے اس کے باوجود اقتدار کے بھو کے ملاں سیاسی اغراض کے پیش نظر مسلمانوں کو اپنے ان مسلمان بھائیوں کے قتل پر اکساتے رہتے ہیں جن کا نقطۂ نظر ان کے اپنے نقطۂ نظر سے قدرے مختلف ہو اور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے ان کا دل چیر کر معلوم کر لیا ہے کہ ان کا ایمان بناوٹی اور مصنوعی ہے۔اُلٹے پاؤں پھر جانے کے لئے قرآن نے ارتداد کا لفظ استعمال کیا ہے۔اس لفظ سے ہی ظاہر ہے کہ کسی شخص کو دوسرے کے متعلق یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ وہ مرتد ہے۔امام راغب اصفہانی نے واضح فرمایا ہے کہ لفظ ارتداد کے معنی ہیں اپنے قدموں کو اس حد تک واپس لے جانا جہاں سے چل کر کوئی شخص آیا تھا۔۔ظاہر ہے اپنے قدموں سے چل کر واپس جانا ، جانے والے کا اپنا اختیاری فعل ہے وہ اگر واپس جائے گا تو خود چل کر واپس جائے گا۔اس لئے اپنے مرتد ہونے کا وہ خود تو اقرار یا اعلان کر سکتا ہے لیکن کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس کی مرضی کے برخلاف اس کو مرتد ٹھہرائے یا قرار دے۔ارتداد کا لفظ خاص طور پر اسلام سے کفر کی طرف واپس لوٹنے کے لئے بولا جاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید کی درج ذیل آیات سے ظاہر ہے :- إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّ وَا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى (محمد: ۲۶) ترجمہ:- وہ لوگ جو ہدایت ظاہر ہونے کے بعد اُس سے پھر گئے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِینِهِ (المائدة: ۵۵) ترجمہ: اے ایمان والو! جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے۔مسند امام احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۲۶۰ - المفردات فی غریب القرآن