مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 186

۱۸۶ مذہب کے نام پرخون نے ایک آدمی کو اپنی زد میں لا کر ہلاک کر ڈالا۔خود اُسامہ بن زید کے اپنے الفاظ میں اس واقعہ کی تفصیل یہاں درج کرنا مناسب ہوگا وہ کہتے ہیں :- میں اور ایک انصاری اُس آدمی کو اپنی زد میں لائے۔جب ہم دونوں نے اس پر اپنے ہتھیار اٹھائے تو اس نے کہا اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ إِلَّا اللهُ ( یعنی میں اقرار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ) لیکن ہم نے اس بات کا یقین نہ کر کے اپنے ہتھیار رو کے نہیں اور اسے قتل کر دیا۔پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ کو پورا واقعہ بتایا۔آپ نے فرمایا ”اسامہ إِلَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ سے اعراض پر تمہیں کون بری الذمہ قرار دے گا ؟ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے یہ کلمہ محض قتل سے بچنے کے لئے اپنی زبان سے ادا کیا تھا۔آپ نے پھر فرمایا ” اُسامہ! لا إلهَ إِلَّا الله سے اعراض پر تمہیں کون بری الذمہ قرار دے گا ؟“ اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں ”قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، آپ برابر یہی جملہ ( یعنی لا إلهَ إِلَّا الله سے اعراض پر تمہیں کون بری الذمہ قرار دے گا؟) دہراتے رہے یہاں تک کہ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ آج سے پہلے میں نے اسلام قبول نہ کیا ہوتا اور یہ کہ میں اسے قتل نہ کرتا۔پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے موقع عنایت فرمائیے میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ اب کبھی کسی ایسے شخص کو قتل نہ کروں گا جو لا إلهَ إِلَّا اللہ کہتا ہوگا۔آپ نے فرمایا: اسامہ میرے بعد ( یعنی 66 میری وفات کے بعد ) بھی یہی کہو گے۔میں نے عرض کیا ہاں آپ کے بعد بھی لے ،، حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ کلمہ پر ایمان رکھنے اور اس کی شہادت دینے والوں کی زندگیوں کے بارہ میں میری تشویش کے باوجود میرے بعد ایسے لوگوں کو غلط کارلوگ اسلام کے نام پر قتل کرنے سے باز نہیں آئیں گے اور ان بے چاروں کو بلا وجہ اپنی زندگیوں سے ہاتھ عبدالملک بن ہشام سیرۃ رسول الله ( گونجن ۱۸۵۶ ء تا ۱۸۲۰ء) صفحہ ۹۸۴ متر جمہاے گوئیلام و 'دی لائف لے آف محمد لندن، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ۱۹۷۰ ء صفحہ ۶۶۷