مذہب کے نام پر خون — Page 12
مذہب کے نام پرخون لونڈوں نے جھولیوں میں بھر بھر کر ان پر پتھر برسائے۔یہاں تک کہ دنیا کا مقدس ترین خون طائف کی گلیوں میں بہنے لگا۔ان کو زہر دیئے گئے۔ان پر شعلہ آسا جنگوں کی آگ بھڑکا دی گئی اور تلواروں کے نیچے قربانیوں کی طرح ذبح کیا گیا۔ان پر تیروں اور پتھروں کی بارشیں برسائی گئیں اور احد کی سر زمین گواہ ہے کہ سنگ دل سفاکوں نے کائنات کی معصوم ترین ہستی کا بدن پے در پے زخموں سے چھلنی کر دیا۔ہاں ان کو نیزوں میں پر دیا گیا اور ان کے سینے چیر کر ان کے جگر چھالئے گئے اور وہ کام جو روم کے سفاک بادشاہ جنگل کے درندوں سے لیا کرتے تھے عرب کے درندہ صفت انسانوں نے خود کر کے دکھا دیئے۔مذہب کے نام پر یہ بے مثال خون ریزی صرف اس لئے کی گئی کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ربنا الله ” ہمارا رب اللہ ہے اور مذہب کے نام پر یہ خون ریزی صرف اس لئے کی گئی کہ مشرکین مکہ کے نزدیک یہ لوگ مرتد تھے۔چنانچہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا اور آپ کے ماننے والوں کا نام مشرکین نے صابی رکھ دیا تھا۔صابی ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنا آبائی دین چھوڑ کر کوئی نیا دین اختیار کر لے۔چنانچہ اس فتنہ ارتداد ( نعوذ باللہ من ذالک) کو دبانے کے لئے انہوں نے وہ سارے طریق اختیار کئے جو ان سے پہلے مذہب کے نہ ماننے والے انبیاء اور ان کی جماعتوں کے خلاف اختیار کرتے آئے تھے۔ایک لمبا زمانہ ہے ان تکلیفوں کا جو مذہب کے نہ ماننے والوں نے مذہب کے علمبرداروں کو دیں بلکہ ایک ایسی قوم کو دیں جو مذہب کے آسمان پر چاند اور سورج بن کر چمکے تھے ، جو مذہبی ارتقاء کی انتہا تھے ، جن کے طے شدہ مقامات سے آگے اور کوئی مقام نہ تھا ، جن سے بہتر لوگ نہ کبھی کسی پہلے مذہب نے پیدا کئے تھے نہ آئندہ کبھی اس دنیا میں ظاہر ہو سکتے ہیں لیکن وہ نبی ، وہ خالق کائنات کا شاہکار اور اس کے شیدائی نہایت ہی صبر اور حلم کے ساتھ اور غیر معمولی قوت برداشت کے ساتھ ان مظالم کو سہتے رہے اور اُف تک نہ کی اور اپنے دکھوں اور اپنی قربانیوں اور اپنے بہتے ہوئے خون سے یہ ثابت کر دیا کہ ظالم اور فسادی مذہب کے مخالفین ہوا کرتے ہیں مذہب کے ماننے والے نہیں۔صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ صبر وتحمل کی صفات کے لاثانی اظہار کے بعد رحم اور شفقت اور