مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 11

مذہب کے نام پرخون لے لے کر خدا ہی کی عبادت سے روکتے ہیں اور مسجدوں میں اس کے ذکر کو بلند کرنے ،، سے منع کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ ویران ہو جا ئیں۔“ غرضیکہ قرآن نے نہایت لطیف پیرایہ میں مذہب پر پڑنے والے اس خونی الزام کو رڈ فرمایا ہے اور یہ تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ اس مقدس نام پر دنیا میں مکروہ ترین مظالم ڈھائے گئے سچے مذاہب کے بچے متبعین کو اس ظلم و تعدی سے کلیۂ بری الذمہ قرار دیا ہے۔یہ تو گزشتہ انبیاء کے ساتھ انسانوں کا سلوک تھا جب کہ ابھی خدا کے نور کا کامل ظہور نہیں ہوا تھا لیکن جب اس کامل ظہور کا وقت آیا اور جزیرہ نمائے عرب کے افق سے وہ ابدی صداقتوں کا سورج طلوع ہوا تو بھی ان بے دین ظالموں نے اپنے تیور نہ بدلے۔جب وہ دنیا کا سردار آیا جس کی ہزاروں سال سے آدم زادوں کو انتظار تھی اور جس کی راہ تکتے تکتے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اس دنیا سے گزر گئے۔وہ جس کی خاطر کائنات کو پیدا کیا۔جس کی شریعت سب شریعتوں سے زیادہ روشن اور جس کی شان سب نبیوں سے بلند اور بال تھی۔وہ انسانیت کا شرف ، وہ خدا کے جلال اور جمال کا مظہر ، وہ سب نبیوں سے زیادہ معصوم نبی جب دنیا میں ظاہر ہوا تو اس کو بھی ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا اور ایسے دردناک ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا کہ اس کی نظیر تاریخ مذاہب میں نظر نہیں آتی۔وہ سارے مظالم جو گزشتہ انبیاء" پر علیحدہ علیحدہ توڑے گئے تھے اس ایک نبی اور اس کی جماعت پر توڑے گئے۔انہیں چلچلاتی دھوپ میں تپتی ریت پر ننگے بدن لیٹا یا گیا اور ان کی چھاتیوں پر دہکتے ہوئے پتھروں کی سلیں رکھی گئیں۔انہیں مکہ کی پتھر یلی گلیوں میں مرے ہوئے جانوروں کی طرح رسیاں باندھ کر گھسیٹا گیا۔سال ہا سال تک ان کے مقاطعے کئے گئے۔انہیں بھوک اور پیاس کی شدید اذیتیں پہنچا ئیں گئیں۔کبھی ان کو تنگ اندھیری کوٹھریوں میں قید کیا گیا اور کبھی ان کے اموال و متاع لوٹ کر گھروں سے نکال دیا گیا۔کبھی بیویوں کو خاوندوں سے چھڑا یا گیا کبھی خاوندوں کو بیویوں سے علیحدہ کر دیا گیا۔مقدس حاملہ عورتوں کو اونٹنیوں سے گرا کر ان پر قہقہے لگائے گئے اور وہ اس صدمے سے جاں بحق ہو گئیں۔ان پر عبادت کے دوران اونٹوں کی اوجھڑیاں پھینکی گئیں۔ان کو گالیاں دی گئیں اور گلیوں کے اوباشوں نے ان کی تحقیر اور تذلیل کی۔دنیا کے ذلیل ترین آوارہ