مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 181

۱۸۱ مذہب کے نام پرخون میں جلائے گئے ، وہ مارے اور پیٹے گئے اور طرح طرح کی جسمانی اذیتیں انہیں دی گئیں لیکن وہ اس راہ میں ثابت قدم رہے جیسے ان سے پہلے بھی ہمیشہ وہ لوگ ثابت قدم رہتے آئے ہیں جن کے دل اس ایمان اور یقین سے پر ہوا کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ وہ حق اور راستی کی راہ میں برداشت کر رہے ہیں۔جو جانتے ہیں کہ اُن کے دلوں میں بنی نوع انسان کی بہبودی کے سوا اور کوئی جذبات نہیں۔اُن کے اقوال بھی اس امر کی گواہی دیتے ہیں اور ان کے افعال بھی۔اور ان کی ساری زندگی ہمدردی اور شفقت اور خوش خلقی اور صبر اور تقوی اللہ کے ساتھ بسر ہوتی ہے۔اگر چہ یہ درست ہے کہ اُن میں سے بعض کمزور اس امتحان کی دشوار گزار راہوں میں آخر تک وفانہ دکھا سکے اور عشق کے مشکل ترین مقامات پر کچھ یہاں رہ گئے اور کچھ وہاں۔مگر ایسے کمزوروں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔شاید ہزار یا دس ہزار میں سے ایک مگر ان کی علیحدگی نقصان کا موجب ہونے کی بجائے جماعت کے لئے مزید تقویت کا موجب ثابت ہوئی اور مزید برکتوں کا پیش خیمہ بنی۔جماعت کا سوادِ اعظم بہر حال انتہائی صبر اور استقلال کے ساتھ اپنے عہد و پیمان پر قائم رہا۔انہوں نے بخوشی اس راہ میں جانیں دیں اور انتہائی صبر کے ساتھ ہر ذلّت کو قبول کیا۔ان کے منہ کالے کر کے انہیں گلیوں میں پھرایا گیا اور گند اور کیچڑ ان پر اچھالے گئے ، اُن کے سوانگ بھرے گئے اور جوتیوں کے ہار اُن کے گلوں میں ڈالے گئے۔وہ دنیا کی ہر مکر وہ گالی اور گندے الزام کا نشانہ بن گئے اور خود اپنے محلوں ہی کی گلیوں میں پھر نا اُن کے لئے دشوار ہو گیا۔اُن کے اُن معصوم بچوں پر بھی آوازے کسے جانے لگے جو نہیں جانتے تھے کہ کس جرم کی سزا انہیں دی جارہی ہے۔وہ ہر روز مدرسوں اور بازاروں سے زخمی دل اور آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ گھروں کولوٹتے تھے۔عجیب وغریب اجنبی ناموں سے اُن کو پکارا جاتا تھا اور دوسرے بچے اپنے ماحول کی تقلید میں اُن پر تالیاں پیٹتے تھے اور مرزائی کتا کی آواز میں جگہ جگہ بلند ہوتی تھیں۔یہ سب کچھ اُن کی سمجھ سے بالا تر تھا۔پس وہ سر پھینکے، دھڑکتے ہوئے دلوں کے ساتھ، چھوٹے چھوٹے تیز قدم اٹھاتے ہوئے اپنے گھروں کی پر امن چار دیواری کی طرف بڑھتے تھے مگر اُن مختصر صحنوں کی سلامتی بھی بسا اوقات گلی سے پھینکے ہوئے پتھروں سے یک دفعہ جھنجھنا کر ٹوٹ جاتی تھی یا غلاظت کے پلندوں اور قتل کی دھمکیوں پر مشتمل