مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 179

۱۷۹ مذہب کے نام پرخون نقشہ۔کیا یہی تصور نعوذ باللہ ہمارے آقا بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دل میں بھی تھا ؟ مولا نامودودی کے عقب میں کتنے ہیں وہ علماء جو اس سوال کا یہ جواب دے سکیں کہ :- ہاں یہی تھا وہ تصور۔وہ تصور یہی تھا۔یہی تھا۔۔! اس امکانی جواب کے تصور سے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ آخر کب تک امت کے علماء اپنے مقدس و مطہر رسول کی طرف (خدا تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں اور درود ہوں اُس کی ذات اور اُس کی آل پر ظلم وتشد د کے تصورات منسوب کرتے رہیں گے؟ ، آخر کب تک انصاف کے نام پر ظلم اور امن کے نام پر بدامنی کی تعلیم دی جاتی رہے گی؟ اور کب تک رحمت کے نام پر جور و ستم اور تقدس کے نام پر با پردہ بیبیوں کی بے آبروئی کا درس دیا جاتا رہے گا؟ سب وشتم کی غیر اسلامی رسومات آخر کب ترک کی جائیں گی ؟ اور کب مخالف فرقوں پر بے بنیادالزام لگانے کا سلسلہ بند ہوگا ؟ یہ راتیں کب ختم ہوں گی اور وہ دن کب آئیں گے جب خدا کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے خون کی ہولی نہیں کھیلی جائے گی ؟ اور میں سوچتا ہوں کہ کیا اسی طرح سپین کی انکویزیشن کی تاریخ دہرائی جاتی رہے گی اور مادام توسو کے ایوان ہائے وحشت آباد ہوتے رہیں گے؟ اور جب میں یہ سوچتا ہوں تو معاً قرآن کریم کی اس آیت کی طرف میرا ذہن منتقل ہو جاتا ہے کہ :- وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوج - وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ - وَ شَاهِدٍ وَ مَشْهُودٍ - قُتِلَ أَصْحَبُ الأخدود - النَّارِ ذَاتِ الْوُقُودِ (البروج: ۲ تا ۶ ) مجھے برجوں والے آسمان اور موعود دن اور شاہد اور مشہود کی قسم ہے کہ کھائیوں والے ہلاک ہو گئے۔یعنی کھائیوں میں وہ آگ جلانے والے جن میں خوب ایندھن جھونکا گیا تھا۔“