مذہب کے نام پر خون — Page 172
۱۷۲ مذہب کے نام پرخون ہیں جو دیو بندیوں کے خلاف۔پھر طر ز کلام بھی وہی انوکھی طرز کلام ہے جس کے اختیار کا تو کیا سوال ذکر تک سے گھن آتی ہے۔ایک طرف آغا شورش بعض مشہور مذہبی راہنماؤں سے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ دھوپ چھاؤں کی اولاد ہیں اور دوسری طرف انہیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ :- اگر بریلوی دھوپ چھاؤں کی اولاد ہیں تو تو اپنے متعلق کیا وثوق سے کہہ سکتا ہے۔کیا اپنی دفعہ تو پاس کھڑا تھا ؟ کیا معلوم تو اندھیرے کی اولاد ہو یا لے ، پھرا اپنی ایک نظم میں کوئی سید محمد ایوب تنہا کپور تھلوی شورش صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔احمد رضا کی شان سے تو آشنا کہاں جا سونگھ ہندؤوں کی لنگوٹی سڑی ہوئی ستے ترا رسول ہیں سنتے ترا خدا جس نے ذرا دکھا دیئے وہ تیری پارٹی کر کے غلط بیانیاں جھوٹے جہان کے ہوتا ہے اب ذلیل تو گھر گھر گلی گلی تو نے تو دم بھرا ہے سدا کفر کا خبیث تکبیر کی خبر تجھے نمرود مسلم کے ساتھ کب سے ہوا ہے تو کھتری ہے کہاں جا ہندوؤں کے ساتھ کہیں کر ہری ہری ایوب جی ہے وقت کی قلت بہت یہاں باتیں وگرنہ اور بھی کرتے کھری کھری سے سید محمد ایوب تنہا صاحب بہت مصروف الاوقات آدمی معلوم ہوتے ہیں۔اگر وقت کی شورش کا آپریشن، بجواب ” کا فر ساز ملا، پیش کردہ حافظ محمدحسین حافظ لائل پور صفحہ ۶ ے رسالہ ”شورش طرف بھاڑے کا جو مصنفہ غلام المشائخ جناب شاہ محمد عاصی سرہندی و جناب سید محمد ایوب تنها کپور تھلوی صفحه ۸،۷