مذہب کے نام پر خون — Page 171
مذہب کے نام پرخون (۷) احمدیت مذہب کے نام پر ایک دکانداری ہے۔اب بعینہ یہی الزامات دیو بندی اور بریلوی ایک دوسرے پر لگانے لگے ہیں اور عوام کو پھر انہی ذرائع سے مشتعل کرنے میں مصروف ہیں۔خصوصاً بعض دیوبندی علماء تو ختم نبوت کے انکار کے الزام میں خطرناک حد تک بریلوی غضب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور یہ تمام علماء جو کل تک اُمت کے ایک عظیم الشان اجماع کا دعویٰ لے کر ایک قلیل التعداد جماعت کے پیچھے پڑے ہوئے تھے آج خود اس اجماع کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ہتھیار بھی وہی ہیں ، ہتھیار چلانے والے بھی وہی۔فنون جنگ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں۔ہاں بدلا ہے تو ہدف بدل گیا ہے۔بے اختیار احرار سے متعلق تحقیقاتی عدالت کے جوں کے وہ الفاظ یاد آ جاتے ہیں کہ :- اسلام ان کے لئے ایک حربہ کی حیثیت رکھتا تھا جسے وہ کسی سیاسی مخالف کو پریشان کرنے کے لئے جب چاہتے بالائے طاق رکھ دیتے اور جب چاہتے اٹھالیتے۔کانگرس کے ساتھ سابقہ پڑنے کی صورت میں تو ان کے نزدیک مذہب ایک نجی معاملہ تھا اور وہ نظریہ قومیت کے پابند تھے لیکن جب وہ لیگ کے خلاف صف آراء ہوئے تو ان کی واحد مصلحت اسلام تھی جس کا اجارہ انہیں خدا کی طرف سے ملا ہوا تھا۔اُن کے نزدیک لیگ اسلام سے بے پروائی نہ تھی بلکہ دشمن اسلام بھی تھی۔اُن کے نزدیک قائد اعظم ایک کا فراعظم تھے۔“ یہ الفاظ فاضل ججوں نے احرار سے متعلق استعمال کئے ہیں اور ان کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں مگر عمو مامذہبی دنیا پر جب علماء کے احوال پر نظر پڑتی ہے تو وہاں بھی انسان یہ نتیجہ نکالے بغیر نہیں رہ سکتا کہ:- اسلام ان کے نزدیک ایک حربہ کی حیثیت رکھتا ہے جسے وہ کسی مخالف کو پریشان کرنے کے لئے جب چاہتے ہیں بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اٹھا لیتے ہیں۔“ ان علماء کی خلوص نیت پر پھر یقین آئے تو کس طرح جبکہ احمدیت کے خلاف بھی وہی حربے استعمال ہوتے ہیں جو بریلویوں کے خلاف ، اور بریلویوں کے خلاف بھی وہی حربے استعمال ہوتے