مذہب کے نام پر خون — Page 170
مذہب کے نام پرخون ننگے ہوئے ہو خود ہی شرافت کے نام پر تہذیب و شرم تم میں ذرا بھی نہیں رہی پھیلائے فتنے ختم نبوت کی آڑ میں کرتے ہو نام امن پہ تم فتنہ پروری چندے بٹورتے ہو نبوت کے نام پر تم کر رہے ہو نام نبی پر گداگری نعروں سے ہے امیر شریعت کوئی بنا راس آ گئی کسی کو ”خطابت کی ساحری یہ بریلویوں اور دیو بندیوں کی ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی کا ایک لمبا سلسلہ ہے اور دونوں طرف کی طرز کلام طبیعت پر سخت گراں گزرتی ہے مگر ایک بات اسے پڑھنے سے بالکل ظاہر وباہر ہے کہ اکثر علماء کی باہمی تکفیر بازی کی عمارت محض جذبات غیظ و غضب پر مبنی ہے۔جس سمت بھی وہ ان جذبات کا دھارا پھیر دیں وہی فرد یا جماعت یا فرقہ کافر، مرتد ، واجب القتل اور مغضوب علیہم بن جاتا ہے۔چنانچہ وہ تمام الزامات جو ۱۹۵۳ء کے فساد کے دوران میں احمدیوں پر لگا کر انہیں واجب القتل قرار دیا جاتا تھا ملزمین خود ایک دوسرے پر لگانے لگے۔احمدیوں کے خلاف بریلویوں اور دیو بندیوں کی طرف سے مشترکہ طور پر یہ الزامات لگا کر عوامی جذبات کو خطرناک حد تک مشتعل کیا جاتا تھا کہ :- (۱) احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں۔(۲) احمدی ہتک رسول کرتے ہیں۔(۳) احمدی انگریزوں کے پٹھو ہیں۔(۴) احمدی پاکستان کے خلاف ہیں۔(۵) احمدی جہاد کے خلاف ہیں۔(۲) احمدی غیر مسلموں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔