مذہب کے نام پر خون — Page 169
۱۶۹ مذہب کے نام پرخون میں پوچھتا ہوں اس سے کہ اے بانی فساد کب سے ملی ہے تجھ کو سند علم دین کی پرشاد “ مندروں کے بتا کون کھا گیا ہندو کی مہر کس کی جبیں پر بتا ”بھارت کی جے“ کے نعرے لگاتا رہا ہے کون خود سوچ کس نے بیچی ہے شرع پیمبری آزادی وطن کا مخالف بتا تھا کون تھی کانگرس کے ساتھ بتا کس کی دوستی نہرو کو ”یا رسول بتا کس نے تھا کہا روندی تھی کس نے سوچ رسالت کی برتری نانوتوی پر کفر کا فتویٰ لگے نہ کیوں کیونکر یہ مان لیں کہ مسلماں ہے تھانوی کس نے کہا ہے ”باب نبوت نہیں ہے بند“ کی قادیانیوں کی بتا کس نے رہبری کس نے سکھائی ہے تجھے توہین مصطفیٰ سیکھے ہیں تو نے کس سے یہ آداب کافری ہم وارث سموم و خزاں ہی سہی مگر تم سے ملی ہے کون سے پھولوں کو تازگی ہم فتنہ و فساد کے خوگر سہی مگر تم نے تو چھین لی ہے ہزاروں کی زندگی انسانیت کے نام پر دیتے ہو گالیاں اس پر بھی کہہ رہے ہو بڑے ہیں بریلوی