مذہب کے نام پر خون — Page 9
مذہب کے نام پرخون بھوکے اور پیاسے درندے اور بھی خون خوار ہو جاتے تھے اور بھوک کی شدت سے غضبناک ہو کر ایک وحشیانہ جنگلی چیخ کے ساتھ بجلی کی کوندوں کی طرح اپنے شکار پر لپکتے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی ہڈیاں تک چبا جاتے تھے تب وہ تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہال قہقہوں سے گونج جا تا تھا کہ ہاں یہ ہے مرتدین کی سزا۔اور اس شام وہ قہقہے لگاتے ہوئے ، مذاق کرتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹا کرتے تھے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ فتنہ ارتداد کو مٹانے کا بس یہی ایک مؤثر طریق ہے۔کبھی بھوک کے ستائے ہوئے بھینسے ان پر چھوڑے جاتے تھے جنہیں غیر مانوس ماحول اور انسانوں کے جم غفیر کا اجنبی منظر وحشت سے دیوانہ کر دیتا تھا۔اور جب وہ ان مظلوم عیسائیوں کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھتے تھے تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا تھا اور بے پناہ نفرت اور غیظ و غضب کی آگ ان کے سینوں میں بھڑک اٹھتی تھی اور سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگتی تھی۔چنانچہ وہ سر پھینک کر اپنے نفس کی مخصوص انتظامی آواز کے ساتھ جو چو پاؤں کے سانس کی نسبت سانپوں کی پھنکار کے زیادہ مشابہ ہوتی ہے اپنے نحیف و نزار شکار پر حملہ آور ہوتے تھے اور کبھی انہیں اپنے سینگوں میں پروتے اور کبھی اپنے عموں کے نیچے روند ڈالتے تھے اور ان مظلوموں کی درد میں ڈوبی ہوئی آہیں تماش بینوں کے شور میں کھو جاتی تھیں لیکن ان ”مومنین کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی اور ان فاقہ کشوں کے نحیف لڑکھڑاتے ہوئے قدم ان کے ایمانوں کو ڈگمگا نہ سکے۔پس وہ بے مثال ایمانی جرات کے ساتھ یقینی موت کی طرف بڑھتے رہے اور کبھی تو درندوں کے منہ کا نوالہ بن گئے اور کبھی جنگلی بھینسوں کے سینگوں کا ہار ہو گئے۔یہ ظلم مختلف وقتوں میں برابر تین صدیوں تک عیسائیوں پر توڑے گئے یہاں تک کہ جب انہوں نے دیکھا کہ روئے زمین پر ہمارے لئے کوئی سر چھپانے کی جگہ نہیں تو وہ سطح زمین کو چھوڑ کر زیر زمین غاروں میں چلے گئے۔وہ غاروں کے چوہوں اور کیڑوں مکوڑوں اور سانپوں اور بچھوؤں میں تو رہ سکتے تھے مگر سطح زمین پر بسنے والے انسانوں میں ان کے لئے کوئی جگہ نہ تھی کیونکہ یہ موذی جانور جبہ پوش مذہبی رہنماؤں کی نسبت ان کے لئے کم خطر ناک تھے۔ان زیر زمین بسنے والے اصحاب کہف کے علاوہ قرآن کریم ایسے ابتدائی موحد عیسائیوں